انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 520 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 520

انوار العلوم جلد 4 ۵۲۰ تحفه شهزاده ویلیز درخواست کی گئی کہ وہ اپنے حکم کو منسوخ کر دے مگر باوجود بار بار درخواستیں کرنے کے گورنمنٹ قسیم بنگالہ کے سوال پر غور کرنے سے انکار کر دیا اور وزیر ہند لارڈ کر یو نے جن کے سے اللہ تعالیٰ نے بعد میں اپنے کلام کے مطابق کام کر دیا، تو پارلمینٹ میں صاف کہہ دیا کہ اس فیصلہ کو ہرگز بدلہ نہیں جا سکتا مگر خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اس نے اپنے کلام کو پورا کرنے کے لئے یہ سامان کیا کہ اسے شہزادہ ذی شان ! آپ کے والد مکرم ہمارے بادشاہ کی تخت نشینی کی تقریب پر یہ تحریک پیدا کر دی کہ ان کی تاج پوشی بحیثیت باد شاہ ہندوستان ہونے کے ہندوستان میں بھی ہونی چاہئے اور اس طرح اس نے آپ کے والد کو اس امر کے لئے منتخب کیا کہ وہ اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کے کلام کو پورا کریں ۔ چنانچہ آپ کی ہندوستان میں تشریف آوری اور تاج پوشی کی تقریب پر ہندوستان کو جن مراعات کا دیا جانا تجویز ہوا ان میں ایک تقسیم بنگالہ کی منسوخی بھی تھی اور انہوں نے ہزاروں میلوں کا سفر اختیار کر کے دہلی جدید دارالخلافہ میں بذات خود تقسیم بنگالہ کی منسوخی کا اعلان کر کے گو یا اس امر کا اعلان کیا کہ حکومتیں اور افراد اللہ تعالی کے نزدیک یکساں ہیں جس طرح وہ رعایا پر حکومت کرتا ہے حاکموں اور حکومتوں پر بھی حکم کرتا ہے اور جب وہ کوئی فیصلہ کر دے تو خواہ کس قدر ہی بعید از عقل معلوم ہو ہو کر رہتا ہے اور یہ کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب بانی سلسلہ احمدیہ خدا تعالیٰ کے رسول اور مامور ہیں اور اسلام اس کا بھیجا ہوا دین ہے ۔ آپ کے معجزات میں سے نویں مثال بھی ہم ایک نوان معجزه و جنگ روس و جان ای و یا این است سیاسی من روس اور جاپان کی جنگ چھڑی تو آپ کو الہام ہوا کہ :- اور وہ یہ ہے ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت تذکره صفحه ۵۱۲ حاشیہ ایڈیشن میارم ) جیسا کہ اس الہام کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے اس میں بتایا گیا تھا کہ جاپانی اس جنگ میں فاتح ہوگا اور یہ کہ اس کو اس قدر عظیم الشان فتح حاصل ہوگی کہ کوریا پر قبضہ کرنے کی جو اسے خواہش ہے اسے وہ پوری کر سکے گا۔ مگر گوریا والے اسے پسند نہیں کریں گے اور اس ملک میں ایک خطر نائی فساد اور فتنہ برپا ہو جائے گا اور ملک کی حالت تباہ ہو جائے گی۔ گو جس وقت یہ الہام شائع ہوا ہے اس وقت بڑے سے بڑے سیاسی مدبر اور بر سر حکومت لوگ بھی اس قسم کی بات منہ سے نہیں نکال سکتے تھے اور جاپان کی اس قدر عظیم الشان فتح کی نسبت امید باندھا تو الگ رہا بعض لوگ تو یہ بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے کہ وہ فتح بھی پاسکے گا اور خیال کرتے تھے کہ اب تک روس نے