انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 507 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 507

انوار المعلوم جلد 4 ۵۰۷ شخصه شهزاده و میز ما را مگر سب ناکام ہوئے بلکہ آپ کی صداقت اور بھی ظاہر ہوئی کیونکہ ایک تو مقدمہ کا فیصلہ اس پیشگوئی کے مطابق ہوا جو پہلے سے شائع کر دی گئی تھی ۔ دوم آپ کے اخلاق کے نمونہ نے لوگوں کے دلوں پر بہت اثر کیا ۔ جھوٹا مقدمہ کرنے والوں کو آپ نے معاف کر دیا اور دوران مقدمہ میں ایک مولوی دینے آیا۔ اس کی ماں کے تعلق کچھ اعتراضات کیے ہیں بڑا مولوی آپ کے خلاف شہادت دینے آیا۔ اس کی ماں کے متعلق کچھ اعتراض تھا ۔ آپ کے وکیل نے اس کی خفت کرنے کے لئے چاہا کہ اس سے اس کے متعلق سوال کرے مگر آپ نے اس کی اجازت نہ دی اور و اور وکیل کو سختی سے منع کر دیا کہ میں اسے شرمندہ کروانا نہیں چاہتا اس سے لوگوں میں آپ کی قبولیت اور بھی بڑھی ۔ اس مقدمہ میں ناکامی ہونے کے بعد مخالفوں نے اور زور سے منصوبے کرنے شروع کئے اور پے در پے کئی مقدمات آپ کے خلاف کھڑے کئے اور بعض مقدمات میں تو مجسٹریٹوں کی مخالفت کی وجہ سے آپ کو بڑی بڑی ایذاء بھی دی گئی اور باوجود بڑھاپے اور بیماری کے گھنٹوں عدالت میں کھڑا رہنا پڑا اور بعض دفعہ بیماری کی حالت میں بیٹھ کر پانی پینے تک کی اجازت نہ دی مگر ہر مقدمہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح دی اور ہر فتح کے متعلق آپ کو بہت پہلے سے خبر دیدی اور وہ مجسٹریٹ جنہوں نے آپ کو تکلیف دی بہت جلد آسمانی عذابوں میں مبتلا ہو کر لوگوں کے ایمان بڑھانے کا موجب ہوئے۔ جوں جوں لوگ معجزات اور نشانات دیکھتے تھے جوق در جوق سلسلہ احمدیہ میں شامل ہونے لگے اور درجوق سلسلہ احمدیہ میں ایک واقعہ نے سب سے زیادہ آپ کی قبولیت کو بڑھایا اور یہ اس طرح ہوا کہ جب ہندوستان میں ہاتی کو بڑھایا اور یہ اس طرح ہوا کہ جب ہندوستان میں طاعون پڑی تو آپ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر یہ اعلان کر دیا کہ اس مرض میں میری جماعت کے لوگ بہت ہی کم مبتلا ہوں گے اور قادیان میں یہ مرض اس سختی سے نہ پڑے گی جس سختی سے کہ اور شہروں میں پڑتی ہے اور یہ کہ آپ کا گھر اس بیماری سے بالکل محفوظ رہے گا اور ساتھ ہی اپنے مخالفوں کو چیلنج دیا کہ اگر وہ بھی خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں تو چاہئے کہ وہ بھی مقابل پر ایسے ہی اعلان کر دیں مگر کوئی مقابل پر نہ آیا اور بعض لوگ جنہوں نے ایسا اعلان کیا وہ فوراً پکڑے گئے اور خود اس بیماری سے ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلہ میں باوجود اس کے کہ آپ کے گھر کے گرد چار برس تک طاعون آتی رہی اور آپ کی چار دیواری کے ساتھ لوگ مرتے رہے ۔ آپ کے گھر میں ایک چوہا بھی اس بیماری سے نہ مرا اور قادیان میں دوسری جگہوں کی نسبت بہت کم طاعون پڑا اور آپ کی جماعت میں شاذ و نادر ہی کوئی کیس ہوا ۔ سخت طاعون بھی جن علاقوں میں پڑی