انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 38

انوار العلوم جلد 4 ۳۸ معیار صداقت کرتے رہیں میں لیکچر ختم کر کے بیٹھوں گا ۔ ہمارے مخالفوں کو اس واقعہ کا بھی غفتہ تھا۔ پس ہمیں جان کی پرواہ نہیں بلکہ قادیان ہمارا مقدس مقام اور اس کی تقدیس ایسی ہی ہے جیسی اوروں کے مقدس مقاموں کی ۔ پس ہم یہ پسند کرینگے کہ نہیں اور ہمارے بیوی بچوں کو کاٹ کاٹ کر ریزہ ریزہ کر دیا جائے مگر ہم اس امر کو ہرگز پسند نہ کرینگے کہ ان مقامات کی بے حرمتی کی جائے۔ پس اب دشمن گو بظاہر ہم پر ہنسے مگر اس کا دل رو رہا ہے کہ وہ اپنے ارادہ میں ناکام رہا ۔ رعایت اسباب پر ان دوستوں بعض دوستوں نے ذکر کیا ہے کہ جب میں نے امرتسر میں لیکچر دیئے تھے تو کسی مولوی نے کہا تھا کہ ہائے افسوس وہ لیکچر دیگر یہاں سے زندہ واپس چلا گیا ۔ تو ہم خدا کے فضل سے وہاں بھی ان کے شر سے محفوظ رہے اور یہاں سے بھی یہ ذلت کے ساتھ واپس ہوئے اور خدا نے ہمیں محفوظ رکھا ۔ ان کا قصہ اصحاب فیل کے مطابق تھا۔ خدا مومن کا محافظہ ہوتا ہے مگر اسباب کی رعایت ضروری ہوتی ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مبارک کے متعلق بھی ایک دفعہ اس قسم کی افواہیں مشہور ہوئی تھیں تو مسلمانوں نے فوراً اس کی حفاظت کا سامان کر لیا تھا ۔ پس گو مقدس مقامات کی حفاظت اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی مدد کا نزول بندوں کی اپنی کوشش پر بھی منحصر ہوتا ہے سوائے ان مقامات کے کہ جن کی حفاظت کا اس نے خاص طور بی پر وعدہ فرمایا ہو۔ پس گو اگر ہم کوشش نہ کرتے تو ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ خود حفاظت کا سامان کرتا مگر ہمارا فرض بھی تھا کہ ہم اپنے ایمانوں کا ثبوت دیتے ۔ پیس خوب یاد رکھو مومن بہت ہوشیار ہوتا ہے اور وہ فوراً احتیاط کی راہ اختیار کر لیتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں افواہ کی بناء پر حفاظت ایک دفع ایک دفعہ رسول اللہ صلی الله للہ علیہ وسلم کو بھی اطلاع طی تھی کہ مدینہ سے دو سو میل کے فاصلہ پر ایک عیسائی حکومت تھی اس کا ارادہ ہے کہ مدینہ پرحملہ کرے۔ مدینہ سے دو سومیل کے پر تھی رادہ ہے دین پر تاریخ سے ثابت ہے کہ اس حکومت نے کبھی بھی مدینہ پر حملہ نہیں کیا۔ لیکن اس خبر کی بناء پر صحابہ خاص طور پر تیار رہنا خاص طور پر تیار رہتے تھے ۔ بلکہ ایک دفعہ معمولی سے شور پر تمام صحابہؓ اپنے گھروں سے نکل کمر ۔ کھڑے ہوئے اور کوئی کدھر کو چل دیا اور کوئی کدھر کو کچھ لوگ مسجد میں جمع ہوگئے اور آنحضر صلی الہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کی تعریف فرمائی جو مسجد میں آگئے ۔ خود خود حفاظتی مؤمن کا فرض ہے اسی کو مومن فتنہ سے بچتاہے اور جو کوئی ایسا موقع پیدا نہیں ہونے دیتا جس سے وہ فتنہ میں پڑے اور کسی پر