انوارالعلوم (جلد 6) — Page 500
انوار العلوم جلد 4 ۵۰۰ تحفه شهزاده ویلیز خدا تعالیٰ تیرے چہرہ کو ظاہر کرے گا اور تیرے سایہ کولمبا کردے گا۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ پر دنیا نے اُسے قبول نہیں کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی: ہائی ظاہر کر دے گا ۔ عنقریب اسے ایک ملک عظیم دیا جائے گا اور خ خزائن اس پر کھولے جائیں گے۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب ہم عنقریب تم میں ہی اور تمہارے ارد گرد نشان دکھاویں گے۔ حجت قائم ہو جائے گی اور فتح کھلی بھلی ہوگی ۔ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک بھاری جماعت ہیں یہ سب بھاگ جائیں گے اور پیٹھ پھیر لیں گے ۔ اگر لوگ تجھے چھوڑ دینگے پر میں نہیں چھوڑوں گا اور اگر لوگ تجھے نہیں بچائیں گے پر میں بچاؤں گا۔ میں اپنی چمکار دکھلاوں گا قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤں گا۔ اسے ابراہیم تجھ پر سلام ہم نے تجھے خالص دوستی کے ساتھ اتھ چن لیا خدا تیرے سب کام درست کر دے گا اور تیری ساری مرادیں تجھے دے گا تو مجھ سے ایسا ہے جیسی میری توحید اور تفرید۔ خدا ایسا نہیں جو تجھے چھوڑ دے جب تک وہ خبیث کو طیب سے جدا نہ کرلے وہ تیرے مسجد کو زیادہ کرے گا اور تیری ذریت کو بڑھائے گا اور من بعد تیرے خاندان کا تجھ سے ہی ابتداء قرار دیا جائے گا ۔ میں تجھے زمین کے کناروں تک عزت کے ساتھ شہرت دوں گا اور تیرا ذکر بلند کرونگا اور تیری محبت دلوں میں ڈال دونگا جَعَلْنَاكَ المسيح ابن مرید ہم نے تجھ کو سیح بن مریم بنایا ، ان کو کہہ دے کہ میں عیسی کے قدم پر آیا ہوں۔ یہ کہیں گے کہ ہم نے پلوں سے ایسا نہیں سنا۔ سو تو ان کو جواب دے کہ تمہارے معلومات وسیع نہیں۔ خدا بہتر جانتا ہے۔ تم ظاہر لفظ اور ابہام پر قانع ہو اور اصل حقیقت تم پر مکشوف نہیں * خدا تیرے دشمنوں کے مقابلہ میں تیرے لئے خود سامان پیدا کرے گا۔ کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو ہدایت پائیں گے اور کچھ لوگ سزا کے مستحق ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہونگے جو تیرے خلاف تدبیریں کریں گے اور اللہ تعالیٰ بھی تدبیریں کرے گا اور اللہ اچھی تدبیریں کرنے والا ہے اور یہ لوگ تجھے ایک ہنسی کے قابل اور حقیر وجود سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کیا اللہ نے اس شخص کو رسول بنا دیا ہے ؟ تو کہ اسے منکر و ! میں سچا ہوں پس میرے نشانات کا ایک وقت تک انتظار کرو۔ ہم ضرور اپنے نشانات ان کو بیرونی دنیا میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی جانوں میں بھی دکھائیں گے جو ہمیشہ کے تذکره صفحه ۱۸۳ تا ۱۸۵ ایڈیشن چهارم