انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 497 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 497

انوار العلوم جلد 4 ۴۹۷ اور انہیں بھی خدا کی بادشاہت کی خوشخبری دے۔ تحفه شهزاده ویلیز غرض آپ اسی طرح کی باتیں کرتے اور لوگوں کو کئی کئی رنگ میں سمجھاتے اور ان مضامین کو جنہیں میں نے اور پر بیان کیا ہے۔ مختلف لفظوں اور مختلف عبارتوں میں کبھی تحریر کے ذریعے اور کبھی تقریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچاتے اور اس کے علاوہ اور بہت سی حکمت کی باتیں آپ کرتے اور دوسرے مذاہب کو بھی دعوت دیتے اور ان کی غلطیوں پر ان کو آگاہ کرتے اور خدا کا کلام ان کو سناتے اور جب آپ کوئی مضمون لکھتے یا تقریر کرتے تو اس قدر حکمت کی باتیں آپ کے فلم اور آپ کی زبان سے نکلتیں کہ لوگ حیران ہو جاتے اور تعجب کرتے اور بہت لوگ دل میں ڈرتے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں سچ ہے پر بہت لوگ پادریوں اور پنڈتوں اور مولویوں کے کہنے پر یہ خیال کرتے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں ان کو دوسرے لوگ سکھاتے ہیں اور خود ان کو کچھ نہیں آتا اور اس طرح اقرار کر لیتے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں وہ ایسا اعلیٰ درجہ کا کلام ہے کہ آپ کی طاقت سے بالا ہے مگر شبہات کی چادروں میں کی اس حقیقت کو پیٹنے کی کوشش کرتے اور اپنے انکار میں اور بھی بڑھ جاتے۔ جب مولویوں ، عالموں اور پادریوں نے دیکھا کہ آپ کی باتیں لوگوں کے دل پر اثر کرتی ہیں اور جو لوگ آپ سے ملتے ہیں آپ کے کلام کو سن کر متاثر ہو جاتے ہیں تو انہوں نے لوگوں میں یہ کہنا شروع کیا کہ اس کی باتیں مت سنو اور اس کی کتابیں مت پڑھو کیونکہ اس کا تعلق شیطان سے ہے اور یہ جاود سے لوگوں کے دلوں کو حق سے پھیر دیتا ہے اور اپنی جھوٹی باتیں ان کی نظروں میں اچھی کر کے دکھا دیتا ہے۔ اور انہوں نے آپ کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا کرنا شروع کیا اور پادریوں نے گورنمنٹ کو اکسانا شروع کیا کہ یہ لیسوع مسیح کی ہتک کرتا ہے اور مولویوں نے عوام الناس کو جوش دلانا شروع کیا کہ یہ کفر کی باتیں کرتا ہے کیونکہ وہ ڈرے کہ اگر اس کی تعلیم کو ہم نے نہ روکا تو لوگ اس تعلیم کو ہم نے نہرو کا تو کی باتوں کو قبول کر لیں گے اور ہماری حکومت جو لوگوں پر ہے جاتی رہے گی اور ایسا ہوا کہ ملک کے بڑے بڑے مولویوں نے مل کر ایک فتوی تیار کیا اور اس میں آپ کے خلاف اور آپ کے مریدوں کے خلاف خوب زہر اگلا اور لکھ دیا کہ تشخص واجب القتل ہے اور دین سے خارج ہے! ہے اور اس کو نقصان پہنچا نا ثواب کا موجب ہے اور اس کو اور اس کے ماننے والوں کو مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن نہیں ہونے دینا چاہئے اور ہر ایک مذہب والے نے اپنی رائے سے اس پر الزام قائم کرنا چاہا اور یہ دیکھ کر وہ یکتا ہیں اور اسکے رسولوں کی باتیں کیا ثابت کرتی ہیں؟ مگر اس تمام شورش کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک جگہ اس کے قلیل التعداد ماننے والے دُکھ دیئے جانے لگے اور لوگ اپنی