انوارالعلوم (جلد 6) — Page 37
تلواریں چلائیں۔وہ بتائیں کہ دونوں میں سے بُزدل کون ہے۔ہم نے کبھی کسی کو دُکھ نہیں دیا ہم وہ لوگ ہیں جنہیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں ہم نے کسی پر حملہ نہیں کیا۔ہم کسی پر حملہ نہیں کرتے بلکہ اگر ہمیں گالیاں دے تو صبر کرتے رہے ہیں۔لیکن یہ نہیں ہوسکتا کہ ہمارے مقدسوں پر اور ہمارے مقدس مقاموں پر کوئی حملہ کرنا چاہے اور ہم صبر کرکے بیٹھ جائیں یا اس وقت خود حفاظتی کی تیاری کریں جب دشمن کا حملہ ہو ہی جائے۔ایسی صورت میں ہم پر شریعت ،اخلاق اور قانون فرض کرتے ہیں کہ حفاظت کریں۔اگر ہم ایسے وقت میں خاموش رہیں تو ہم مومن نہیں فاسق ہونگے۔مخالفوں کا حضرت اقدس کی قبرمبارک کھودنے کا ناپاک ارادہ پس اگر یہ خبریں جو ہمیں ملیں محض افواہیں ہوں جو دشمنوں نے ہمیں گھبرادینے کے لئے مشہور کی تھیں (جوبات کہ فی الواقع نہیں ہے) تو بھی ہمارا کوئی نقصان اس انتظام سے نہیں ہوا۔ہمیں چار دن میں اس کام کی مشق ہوگئی۔اگر چہ ہمارے پاس کافی وجوہ ہیں کہ دشمن کا ارادہ بد تھا۔ان کے اشتہار اس امر کے شاہد تھے۔مختلف مقامات سے ایک ہی قسم کی اطلاعات آرہی تھیں۔پٹیالہ ،لدھیانہؔ،امرتسر ،لاہور اور قادیان کے اردگرد کے دیہات میں چرچا تھا کہ اس دفعہ مرزا صاحب کی قبر کھودینگے اور دیکھیں گے کہ وہ سچّے نبی تھے یا جھوٹے۔اگر سچّے تھے ان کے جسم کو مٹی نے نہیں کھایا ہوگا اوران کے کتب خانوں کو جلایا جائے گا کیونکہ ان سے دُنیا میں گمراہی پھیلتی ہے۔لاش کو مٹی کے کھانے کے اعتراض کا جواب تو میں اعتراضوں میں بتائوں گا کہ یہ اعتراض فضول ہے مگر ہم کو ایسی خبریں پندرہ سولہ جگہوں سے پہنچیں اس لئے ہم نےاپنےپہرے کا بندوبست کیا۔اگر یہ لوگ کہیں کہ ہم نے جان بچائی اور گھر میں بند ہوکر بیٹھ گئے تو یہ ان کی عقل کی کوتاہی ہے کیونکہ ہمیں جان کی پرواہ نہیں اور یہ جو کچھ تھا یہ اس لئے تھا کہ ہم اپنی جان کو ان چیزوں کی حفاظت کے مقابلہ میں کچھ نہیں سمجھتے۔قادیان کی حفاظت کیلئے ہم کیا قربانی دینگے مجھے بُزدلی سے طبعاً نفرت ہے۔مَیں نے پچھلے سال جب امرتسر میں لیکچر دیا اور مولویوں نے شور شروع کیا اوران کا ارادہ اینٹ پتھر پھینکنے کا معلوم کرکے بعض دوست میری محبت سے میرے آگے کھڑے ہوگئے تو مَیں نے ان کو حکماً بٹھا دیا۔اس وقت بعض دوستوں نے گبھرا کر مجھے کہا کہ آپ بیٹھ جائیں اور لیکچر نہ دیں تو مَیں نے ان کو جھڑک دیا کہ کیا تم مجھے بُزدل بناتے ہو۔یہ شور