انوارالعلوم (جلد 6) — Page 487
انوار العلوم جلد 4 ۴۸۷ تحفه شهزاده و نمیز کودیکھ کر پھر ہوگئے۔ پھر انہوں نے جگایا کہ یں نے آواز نی ہے اُٹھو اور اس مکان کو خالی کر دو گرانوں نے پرواہ نہ کی اور ان کا وہم سمجھا۔ پھر ان کو ایسی ہی آواز آئی اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ چھپت گرے گی اور صرف آپ کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہے ۔ اس پر آپ نے ان کو جبراً اٹھایا اور پہلے ان کو کال اور آخر میں آپ نکلے۔ جونہی کہ آپ نے قدم اُٹھا کر سیڑھی پر رکھا چھت گر گئی اور تمام ساتھیوں نے محسوس کیا کہ اگر آپ وہاں نہ ہوتے یا پہلے ان کو نکال کر بعد میں خود نہ نکلتے تو ضرور وہ اس چھت کے نیچے دب کر مر جاتے اور وہ آپ کو عزت اور تعجب کی نگاہوں سے دیکھنے لگے ۔ ۔ کی وجہ وجہ سے اور جبکہ آپ سیالکوٹ ہی میں تھے کہ آپ کی والدہ سخت بیمار ہوگئیں اور آپ کے والد صاحب نے ان کی بیماری کے سبب ۔ کے سبب سے بھی اور اس خیال سے بھی کہ اس قدر عرصہ باہر رہنے کی دنیا کے سرد و گرم کے چکھنے کے سبب سے اب آپ کی طبیعت دنیا کے کاروبار کی طرف مائل ہو گئی ہوگی آپ کو واپس بلوا لیا اور اپنی جائداد کا انتظام آپ کے سپرد کر دیا ۔ مگر وہ پاکیزگی اور خدا سے لگاؤ جو آپ کو حاصل تھا اس کا زور جس طرح کچہری کی ملازمت سے کم نہ ہوا تھا اب جائداد کے انتظام سے بھی اس میں کوئی کمی پیدا نہ ہوئی۔ آپ والد کے کہنے پر کام تو کرتے مگر توجہ خدا تعالیٰ ہی کی طرف رہتی اور ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی یاد کو نہ بھولتے۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ ایک مقدمہ پر گئے ہوئے تھے کہ نمازہ کا وقت آگیا۔ بعض دوستوں نے کہا کہ اس وقت یہاں سے جانا درست نہیں کیونکہ بھی محشریت آوانہ دے گا مگر آپ نے اس کی پرواہ نہ کی باہر جا کر نماز شروع کردی ۔ اس عرصہ میں مجسٹریٹ نے پہلے مقدمہ سے فراغت حاصل کر کے آپ کے مقدمہ کا کام شروع کیا اور آپ کو آواز دی گئی مگر آپ اطمینان سے نماز پڑھتے رہے اور جب عبادت الہی سے فراغت حاصل کر کے عدالت میں گئے تو اس وقت تک مجسٹریٹ مقدمہ ختم کر چکا تھا ۔ ٹ انہی دنوں میں ایک اور واقعہ پیش آیا جس سے آپ کا تعلق باللہ معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ آپ ایک ضروری مقدمہ کے لئے۔ کے لئے گئے ہوئے تھے جس پر آپ ر آپ کے والد کے حقوق کا بہت کچھ انحصار تھا ایک دوست کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے جب مقدمہ سے واپس آئے تو بہت خوشش تھے۔ اس دوست نے سمجھا کہ آپ مقدمہ جیت آئے ہیں مگر معلوم ہوا کہ مقدمہ آپ کے والد کے خلاف ہوا تھا اور آپ خوش اس امر سے تھے کہ اب کچھ دن آرام سے عبادت الہی کا مزا حاصل کریں گے ان دنوں میں آپ نے ثابت کر دیا کہ کس طرح انسان والدین کی اطاعت کرتے ہوئے بھی اپنے مالک اور آقا کو خوش کر سکتا ہے اور ضروری نہیں کہ اپنے ماں باپ کی ہتک کرکے ہی خدا کو خوش کرے۔