انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 485 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 485

جمع کئے جاویں گے اور مردہ دلی زندہ کئے جاویں گے ان ایڈورڈ ارونگ صاحب کےذریعہ سے فرقہ کیتھولک اپاسٹولک چرچ کی بنیاد پڑی۔اسی طرح فرقہ اڈونٹسٹ انیسویں صدی سے مسیحؑ کی آمد کا انتظار کر رہا ہے اور اس نے بہت سی تکالیف اُٹھا کر بھی اپنے خیالات کو ترک نہیں کیا اوراب تک امریکہ میں اس کے افراد اپنے خیالات کی اشاعت میں مشغول ہیں۔ان کے سوا لاکھوں انسان مسیحیوں اور یہودیوں میں ایسے تھے اور ہیں جو یہ یقین کرتے ہیں کہ مسیح کی آمد کا زمانہ یہی ہے اورانہوں نے اس امر پرکتابیں لکھی ہیں اور لڑیچر شائع کیا ہے۔مسلمانوں میں بھی عام طور پر یہ یقین پایاجاتا تھا کہ تیرھویں صدی کے آخر یا چودہویں صدی کے شروع میں مسیحؑنازل ہوں گے اور اس کے متعلق بہت سے صاحب کشف لوگوں نے کشوف اور رئویا ء دیکھے تھے اور الہام پائےتھے جس کی وجہ سے تمام عالم اسلام کو اس امر پر یقین ہوگیا تھا کہ اب مسیح ؑکے نزول کا زمانہ قریب آگیا ہے اور اس طرح آپ ؑکو اس سے جس کے نام پر آپ نےدُنیاکو ہدایت دینی تھی اپنی پیدائش کے وقت سے ہی ایک مناسبت پیدا ہوگئی تھی کیونکہ پہلے مسیحؑ کی پیدائش کےوقت بھی بعض لوگوںکو بتایا گیا تھا کہ مسیحؑ پیدا ہونے والا ہے صرف فرق یہ ہے کہ اس کے وقت میں تو ستاروں سے لوگوں کو توجہ دلائی گئی تھی اور ان کے زمانہ میں غیر مذاہب کے لوگوں کو خوابوں اورقلبی اشاروں اور مسلمانوںکو کشفوں اور الہاموں کےذریعے سے متوجہ کیا گیا۔گو آپ ؑکی پیدائش کے ساتھ آپؑکے خاندان کی مالی حالت اچھی ہونے لگ گئی تھی مگر آپ کی نوجوانی کے ابتدائی ایام سے آپؑ کے والد کی مالی حالت خراب ہونے لگی کیونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ فوت ہوگئے اور ان کے بعد طوائف الملوکی ہوگئی اورگورنمنٹ برطانیہ نے پنجاب پر قبضہ کرنے کےساتھ ہی ان کی جائداد قریباً تمام کی تمام ضبط کرلی۔جس سے ان کےوالد کے دل پر دنیا کی بے ثباتی کا ایک گہرا اثر پڑا اوران کی اس حالت کو دیکھ کر نہایت ابتدائی عمر سے آپؑ کے دل پر بھی دُنیا کی بے ثباتی کا ایک نہ مٹنے والا نقش جم گیا۔باوجود اس کے کہ وہ زمانہ علم کا نہ تھا آپؑ کے والد نے خود استاد رکھ کر آپؑ کو تعلیم دلوائی مگر اس زمانہ کے لحاظ سے گو وہ تعلیم اعلیٰ خیال کی جاسکتی ہو۔خصوصاً شرفاء میں جو کہ تعلیم کو صرف ادنیٰ قوموں کے لوگوں کے لئے مخصوص سمجھتے تھے لیکن مدرسی تعلیم کے لحاظ سے وہ تعلیم کچھ بھی نہ تھی اور ہمیشہ آپؑ کے دشمن علماء روحانی مقابلہ سے عاجز آکر آپ ؑکو اس امر کا طعنہ دیا کرتےتھے کہ کیا