انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 476

انوار العلوم جلد 4 تحفه شهزاده ویلیز اس مظهر شان خدا پر جو گرا وہ پاش پاش ہو گیا ایک قلیل اور بے سامان جماعت کے ہاتھوں سے تجربہ کار جرنیلوں کو اللہ تعالیٰ نے شکست دلوائی اور ذلیل کروایا اور پھر جب بار بار کے عفو کے بعد بھی اس کے دشمن باز نہ آئے اور معاہدہ پر معاہدہ کر سکے توڑنے لگے تو خدا تعالیٰ نے یہ دکھانے کیلئے کہ اس کی فتوحات اسی وجہ سے نہیں ہیں کہ وہ اپنے گھر کے قریب ہوتا ہے اور اس کے دشمن ایک لمبا سفر کر کے اپنے گھروں سے دور اس سے لڑنے آتے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور اس کی تانی سے ہیں اس کو کم دیا کہ وہ خود ان کے تلوں پر حملہ کرے اور وہ جس طرف کی فتح و ظفرنے نے گیا دشمن اس کی رکابوں کو آکر تھام لیا اور دشمن اپنے گھروں میں بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکا اور حضرت مسیح کے کلام کا دوسرا پہلو پورا ہوا کہ وہ جس پر گرا اسے اس نے چکنا چور کر دیا ۔ یه فاران سے دس ہزار قدوسیوں سمیت آنے والا آتشی شریعت اپنے داہنے ہاتھ میں رکھنے والا جس کے ذریعہ سے نفس کے تمام گند جل جاتے ہیں اور جو کھوٹے دلوں کو صاف کر کے گھر سونا بنادیتی ہے جس کی نسبت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں کہ :- میری اور بہت سی باتیں ہیں کہ میں نہیں کوں پر اب تم ان کی برادشت نہیں کرسکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آدے تو وہ تمہیں ساری سچائی کی راہ بنادے گی اسلئے کہ وہ اپنی رکھے گی لیکن جو کچھ وہ سنے گی سوکھے گی اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گی۔ رو یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۲ ، ۱۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۷۰ ۶۱۸ ) وہ جس کی غلامی پر انبیاء کو بھی فخر ہے وہ ہی بانی اسلام مثیل موسی مگر موسی سے اپنی تمام شان میں بال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنس آج دنیا میں ظالم اور بٹ مار کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس نے خونریزی سے سطح زمین کو رنگ دیا اور ایسا ہونا ضرور تھا کیونکہ تمام انبیاء کے مخالفین کے دل ایک ہی سانچے میں ڈھلے ہوئے ہوتے ہیں وہ ہر ایک بات کے دونوں پہلوؤں کو بُرا کہتے ہیں۔ یوحنا کھاتا پیتا نہیں آیا اور دے کہتے ہیں کہ اس پر ایک دیو ہے ۔ ابن آدم کھانا پیتا آیا اور دے کہتے ہیں کہ دیکھو ایک کھاؤ اور شرابی اور محصول لینے والوں اور گنہگاروں کا یار رستی باب ۱۱ آیت ۱۸ ، ۱۹ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء ) مسیح ناصری بلا تلوار کے آیا اور بلاکسی گناہ کے صلیب پر لٹکایا گیا اور انہوں نے اس کے سر پر کاٹنوں کا تاج رکھا اور صلیب پر لٹکا دیا اور ہنسی سے شور مچایا کہ اسے یہودیوں کے بادشاہ