انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 471

انوار العلوم جلد 4 ۴۷۱ تحفه شهزاده و میز اور شہب بھی ہمیشہ ہی کرتے ہیں اور مذہبی رہنماؤں کا اثر بھی بارہا کم ہو چکا ہے ۔ مگر جب ہم غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ مینوں بہت بڑی علامتیں ہیں کیونکہ گوانجیل میں جو حضرت مسیح سے ایک لمبا زمانہ بعد لکھی گئی ۔ نٹی ہے اس پیشگوئی کی تمام تفصیل کا پتہ نہیں لگتا لیکن اسلامی روایات میں اس زمانہ کے سورج اور چاند گرہن کی نسبت ایک شرط بتائی گئی ہے جو مسیح کے زمانہ کے گرہن کو ایک خصوصیت جو کے بخشتی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ گر آن چاند کے مہینوں میں سے رمضان میں لگیں گے اور چاند گرہن تو تیرھویں کو لگے گا اور سورج گرہن اُٹھائیسویں کو اور یہ نشان جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مائی رسالت کے زمانہ میں ظاہر نہیں ہوا لیکن اس زمانہ میں جبکہ مسیح کی آمد کی دوسری علامات پوری ہو گئی ہیں یہ بھی پوری ہو گئی ہے اور ۱۸۹۴ء کے رمضان میں بعینہ اسی طرح ہوا۔ لینی تیرہویں شب کو چاند گرہن ہوا اور اٹھا میسویں کو سورج گرہن ہوا اور نہایت مکمل گرہن ہوئے جو اپنے کمال کے لحاظ سے بھی خصوصیت رکھتے تھے ۔ اسی طرح ستاروں کا گرنا بھی گو ایک عام حادثہ ہوتا ہے اور ہمیشہ نومبر کے مہینے میں ستار کثرت سے گرا ہی کرتے ہیں مگر یہی ستاروں کا گرنا اگر اپنے اندر کوئی خصوصیت پیدا کرے تو یہ ایک نشان ہو جائے گا جس طرح لڑائیوں کا ہونا یا قحط کا پڑنا یا بیماریوں کا پھیلنا نشان بن سکتے ہیں کہ یہ امور بھی ہمیشہ دنیا میں ہوا ہی کرتے ہیں اسی طرح یہ بھی نشان بن سکتا ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں جبکہ باقی سب علامات مسیح علیہ السلام کی آمد ثانی کے متعلق پوری ہو چکی ہیں یہ علامت بھی ایک خصوصیت کے ساتھ پوری ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ گو زمین کے اس علاقہ میں سے گزرنے کے وقت جو شہب کا علاقہ ہے شب کثرت سے کرتے ہی چلے آئے ہیں مگر اس زمانہ میں یہ شہب خصوصیت سے گرے ہیں اور ۱۸۷۲ ء ، ۱۸۷۹ء ، ۱۸۸۵ء میں اس کثرت سے شہب گرے ہیں کہ جن کی مثال پہلے نہیں ملتی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک دم دار ستارہ جسے ایم بیلا کا دمدار ستارہ کہتے ہیں کیونکہ اس نے اس کی رفتار کا پتہ لگایا تھا ٹوٹ گیا ہے یا یہ کہ اس کے بعض حصص الگ ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے ان سالوں میں کثرت سے شہرب گرے ۔ اس سے پہلے دم دار ستارہ کے اس طرح ٹوٹنے کا تاریخ سے کوئی پتہ نہیں چلتا۔ پس اس زمانہ میں شہب پہلے زمانوں کی نسبت بہت زیادہ گرے ہیں اور اس لئے ان کو شیخ کی آمد کے نشانات میں شامل کرنے سے اس کی شناخت میں خاص مدد ملتی ہے ۔ مذہبی رہنماؤں کے اثر میں کمی بھی گو اس زمانہ سے مخصوص نہیں لیکن اگر یہ کمی جس حد تک اس زمانہ