انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 469 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 469

جس طرح ایلیا کی آمد ثانی تھی یعنی ان کی طبیعت اوران کی قوت کے ساتھ ایک شخص ظاہر ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔جس کی آنکھیں دیکھنے کی ہوں دیکھے اور جسکے کان سننے کے ہوں سنے تا ایسا نہ ہو کہ جس طرح یہود نے ظاہر لفظوں پر جاکر ایک نادر موقع کو ہاتھ سے جانے دیا اور اب تک انتظار کی تکلیف برداشت کر رہے ہیں اسے بھی انتظار اور حسرت کے سوا کچھ میسر نہ آئے اور خدا کی بادشاہت کے دروازے اس پر بند کردئیے جاویں۔اے ولی عہد! اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو اور آپ کے دل کو حق کے قبول کرنے کے لئے کھول دے! جیسا کہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ آنے والے نےمسیح علیہ السلام کی طبیعت اوران کی قوت میں ظاہر ہونا تھا نہ کہ خود مسیح علیہ السلام نےآسمان سےاُترنا تھا۔پس ہمیں آنے والے مسیحؑ کے پہچاننے کے لئے اس ہوشیار غوطہ خور کی طرح جو ہر قسم کے بندھنوں اور روکوں کو دُور کرکے سمندر میں غوطہ مارتا ہے تا موتی نکالے(نہ کہ ظاہر میں آسمان کی طرف تکتا ہے کہ اس کی طرف موتیوں کی بارش کی جائے اور دل سے آسمانی قوانین کا منکر ہوتا ہے) پیشگوئیوں کے الفاظ میں تدبر کرنا چاہئے اوران کے صحیح مطلب کو سمجھنے اوران سےمسیح کی شناخت کے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا نہ ہو کہ جب اس کے آنے کی خبر ہو تو ہم ان عورتوں کی طرح جنہوں نے اپنے ساتھ تیل نہ رکھا تھا اِدھر اُدھر تیل کی تلاش میںپھرتے رہیں اور دولہا اپنے انتظار میں چوکس بیٹھنے والی کنواریوں سمیت محل میں داخل ہوجائے اور اس کے دروازے ہمارے لئے بند کرئیے جائیں اور ہمارے لئے صرف رونا اور دانت پیسنا ہو۔(متی باب ۲۵۔آیات ۱تا ۱۳ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ء) وہ پیشگوئیاں جو حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی آمد ثانی کے متعلق بیان فرمائی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بعثت اس وقت تک نہ ہوگی جب تک کہ یروشلم میں اس مکروہ چیز کی قربانی نہ کی جائے جس کی کراہت یہود میں اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ وہ اس کا نام بھی لینا پسند نہ کرتے تھے اور اس سےانہوں نے یہ جتا دیا تھا کہ کسی قریب کے زمانہ میں ان کی بعثت مقدر نہیں بلکہ ایک بعید زمانہ میں مقدر ہے۔اس وقت تک اگر کوئی مسیحیت کا دعویٰ کرے تو حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ وہ جھوٹا ہوگا اور تم اس کو قبول نہ کیجیو۔مگر جبکہ قوموں پر قومیں چڑھیں اورطاعون دنیا میں پھیلے اور لڑائیاں بکثرت ہوں اور زلزلے آویں اور قحط لوگوں کی زندگیوں کو بد مزہ کردیں اور فساد دنیا میں پھیل جائے اور اس کے ساتھ سُورج اور چاند بھی اندھیرے ہوجائیں اور آسمان سے ستارے گریں اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں تب ابن آدم کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور وہ جلال کے ساتھ