انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 466

انوار العلوم جلد 1 تحفه شهزاده ویلیز ہمارا تحفہ اور وہ یہ خوشخبری ہے کہ وہ جس کی انتظار مسیحی اور اسلامی دنیا یکساں کر رہی تھی اور جس کی آمد کے لئے بڑے اور چھوٹے چشم براہ تھے اور بہت تھے جو حسرت سے آسمان کی طرف نظر اٹھا کے براہ اُٹھاتے تھے اور سرد آہوں کے ساتھ اس امر کی خواہش ظاہر کرتے تھے کہ کاش ! وہ ان کی زندگیوں میں نازل ہو کہ وہ اس کی دیدار سے مشرف ہوں وہ آگیا ہے اور اس نے اپنے جلال اور اپنے نور ہو کہ وہ کی دیدار سے ہوں وہ ہے اور نے اپنے جلال اور اپنے توں سے دنیا کو روشن اور منور کر دیا ہے ۔ مگر وہی اس کی آمد سے فائدہ اُٹھاتے ہیں جو سمجھنے اور اٹھالے ہیں ؟ بوجھنے کی تکلیف گوارا کرتے ہیں تاکہ وہ جو نوشتوں میں لکھا تھا پورا ہو ۔ کہ تم کانوں سے تو سنو گے مگر سمجھو گے نہیں اور آنکھوں سے دیکھو گے پر دریافت نہ کرو گے کیونکہ اس قوم کا دل موٹا ہوا اور دے اپنے کانوں سے اونچا سنتے ہیں اور انہوں نے اپنی آنکھیں موند لیں تا ایسا نہ ہو کہ دے اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور کانوں سے سنیں اور دل سے سمجھیں اور رجوع لادیں اور میں انہیں چنگا کروں " وه رستی باب ۱۳ آیت ۱۴، ۱۵ نارتھ انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ۱۸۷۰ ه ) جو خدا کی بادشاہت سے دُور رہنا چاہتے ہیں کہتے ہیں کہ خدا کی مقدس کتابوں میں لکھا ہے کہ وہ آسمان سے نا ے نازل ہو گا اور ہم تو اس وقت تک کسی کو نہیں مانیں گے جب تک کہ وہ فرشتوں کے وقت ساتھ بادلوں میں سے اُترتا ہوا دکھائی نہ دے کیونکہ کہا گیا تھا کہ ابن آدم کو لوگ بادلوں میں سے بڑی تھا ابن آدم کولوگ سے قدرت اور جلال کے ساتھ اُترتا ہوا دیکھیں گے اور وہ اپنے آگے فرشتوں کو بھیجے گا ۔ مرقس باب اور وہ اپنے فرشتوں کو بھیجے گا۔ اور ۱۳ - آیت ۲۶) پس جب تک ہم اسی طرح ہوتا ہوا نہ دیکھیں کسی پر ایمان نہ لائیں گے تا نہ ہو کہ ہم اپنے ایمانوں کو ضائع کر دیں اور اپنے یقین کو صدمہ پہنچائیں ۔ نار تھے انڈیا بائبل سوسائٹی مرزا پور مطبوعہ ہے