انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 463

انوار العلوم جلد 4 ۴۶۳ تحفه شهزاده ویلیز خلاف بھڑک اُٹھے اور اُٹھے اور اس کے افراد کو طرح طرح سے دُکھ دیئے گئے اور تکالیف پہنچائی گئیں اور وہ گھروں سے نکالے گئے اور عدالتوں میں ان کے خلاف جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے اور ان کے نکاح جبراً توڑ دیئے گئے اور بعض جگہ ان کی عزیز اولادیں ان سے چھین لی گئیں اور مار پیٹ کی قسم سے بدنی تکالیف بھی بہت جگہ پر پہنچائی گئیں اور ان کی عزتوں پر بھی حملے کئے گئے مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار کے لئے اور اسلام کی تعلیم کیے قائم کرنے کے لئے یہ سب کچھ برادشت کیا لیکن اس گورنمنٹ کے خلاف جو گو ایسا مذہب رکھتی تھی جسے اس جماعت کے مذہب کے ساتھ سب سے زیادہ اختلاف تھا لکن سیا شتا ایک امن پسند حکومت تھی کسی قسم کی بدی اپنے دول میں رکھنی پسند نہ کی اور ہمیشہ اس کی نیکیوں کا اظہارہ کیا اور اس کی کمزوریوں سے چشم پوشی کی۔ کی کمزوریوں سے چشم پوشی کی تا نیا میں امن قائم ہو اور وہ غرض پوری ہو جس کے لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے تھے یعنی دنیا میں امن قائم کر کے سب قوموں کو یکجا جمع کیا جائے ۔ امن پسندی اور حکومت کی وفاداری کی تعلیم کے نتیجہ میں صرف اسی قدر اس جماعت نے دکھ نہیں اُٹھایا بلکہ جہاں اس کے مخالفوں کو طاقت حاصل تھی وہاں اس سے بہت زیادہ دردناک سلوک اس سے کیا گیا ۔ چنانچہ افغانستان میں ہمارے دو آدمیوں کو صرف اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ بانی سلسلہ احمدیہ کی تعلیم کے مطابق مذہبی جنگوں کے معتقد نہیں تھے۔ ان میں سے ایک صاحب افغانستان کے ایک زبردست عالم تھے اور امیر حبیب اللہ خان تصاحب سابق فرمانروائے افغانستان کی یا چپوشی کی رسم انہوں نے ہی ادا کی تھی۔ ان کو امیر حبیب اللہ خان صاحب نے صرف اسی جرم میں قتل کروا دیا اور قتل بھی کسی معمولی طریق سے نہیں بلکہ چاروں طرف آدمی کھڑے کر کے پتھر مار مار کر ان کو شہید کیا۔ اس دردناک واقعہ کے متعلق فرنگ اسے مارتن FRANK A۔ MARTIN جو حکومت افغانستان کے انجینئر انچیف کے عہدہ پر ایک بلے عرصہ تک متعین رہے ہیں۔ اپنی کتاب UNDER THE ABSOLUTE AMIR انڈر دی البسولیوٹ امیر" میں یوں لکھتے ہیں :- چونکہ یہ مولوی صاحب (صاحبزادہ عبداللطیف صاحب ، تعلیم دیتے تھے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ مسیحیوں کو بھی بھائی سمجھیں اور ان کو واجب القتل کا فر نہ خیال کریں اس لئے اگر ان کی تعلیم کو مان لیا جاتا تو امیر کا بڑا ہتھیار یعنی مذہبی جنگوں کا اعلان جسے وہ ور روسیوں کے خلاف استعمال کر سکتا تھا باطل ہو جاتا تھا پیس جب امیر کو انگریزوں روں