انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 462

انوار العلوم جلد 4 ان بڑے لوگوں سے بڑے ہیں ۔ ۴۶۲ تحفه شهزاده و میز اے شہزادہ مکرم ! یہ تحفہ اس جماعت کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہو رہا ہے جس نے میں سال سے زیادہ عرصہ تک آپ کی دادی آنجہانی علیا حضرت ملکہ وکٹوریہ اور ان کے بعد آپ کے دادا آنجہانی شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم اور پھر آپ کے مکرم و معظم والد اپنے موجودہ بادشاہ کی وفاداری اور اطاعت میں اپنوں اور بیگانوں سے گوناگوں تکالیف اُٹھائی ہیں اور اس کے بدلہ میں وہ حکومت سے کبھی بھی کسی صلہ کی طالب نہیں ہوئی۔ اس جماعت کا شروع سے یہ دستور العمل رہا ہے کہ حکومت وقت کی فرمانبرداری کرے اور ہر ایک قسم کے فتنہ اور فساد سے بچے اور اس کے بانی نے ان شرائط میں جن پر عمل کرنے کا وعدہ کرنے پر ہی کوئی شخص اس سلسلہ میں شامل ہو سکتا ہے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ حکومت وقت کی پوری فرمانبرداری کی جائے اور بغاوت کے تمام راستوں سے اجتناب کیا جائے چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں اس جماعت کے افراد نے ہمیشہ فتنہ اور فساد سے اپنے آپ کو الگ رکھا ہے اور بہت سے دوسرے لوگوں کے لئے بھی نمونہ بنی ہے۔ آج سے کچھ سال پہلے مسلمانوں میں سے وہ طبقہ جو علماء کے قبضہ میں تھا گو وہ عملاً امن پسند تھا اور گورنمنٹ کے راستہ میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہ ڈالتا تھا مگر علماء کی تعلیم کے ماتحت وہ اس امر کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص عقیدہ اس امر کو تسلیم کرے کہ کسی غیر مذہب کی حکومت کے نیچے مسلمان اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور چونکہ یہ جماعت نہ صرف عملاً ہر قسم کے فساد کے طریقوں سے دور رہتی تھی بلکہ عقیدہ بھی حکومت وقت کی فرمانبرداری کو ضروری جانتی تھی اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتی تھی اس بات کو نہایت برا منایا جاتا تھا اور بعض نادان علماء یہ خیال کرتے تھے کہ اس قسم کی تعلیم کی اشاعت سے مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ حربہ نکل جائے گا جس کے ذریعہ سے وہ اسلام کی زندگی کو بچائے ہوئے ہیں اور جس کے سہارے پر ہی آئندہ کی ترقیات کی امیدیں قائم ہیں اور اس وجہ سے وہ اس جماعت کو طرح طرح کے دُکھ دیتے تھے اور نقصان پہنچاتے تھے اور انہوں نے فتویٰ دیدیا تھا کہ اس جماعت کے افراد کے ساتھ بولنا یا ان سے سلام کرنا یا ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا بالکل منع ہے بلکہ جو شخص ان کے ساتھ ہاتھ بھی ملائے وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا۔ کیا جائے گا جو ایک غیر مسلم سے ہونا چاہئے ۔ عوام الناس کا ایک حصہ چونکہ اس قسم کی جوش دلانے والی باتوں سے متاثر ہو جایا کرتا ہے یہ حربہ اس جماعت کے خلاف ایک حد تک کامیاب ثابت ہوا یعنی عوام الناس کے جوش اس جماعت کے