انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 462

ان بڑے لوگوں سے بڑے ہیں۔اے شہزادۂ مکرم! یہ تحفہ اس جماعت کی طرف سے آپ کی خدمت میں پیش ہورہا ہے جس نے تیس سال سے زیادہ عرصہ تک آپ کی دادی آنجہانی علیہا حضرت ملکہ وکٹوریہ اور ان کے بعد آپ کے دادا ٓنجہانی شہنشاہ ایڈورڈ ہفتم اور پھر آپ کے مکرم و معظم والد اپنے موجودہ بادشاہ کی وفاداری اور اطاعت میں اپنوں اور بیگانوں سے گونا گوں تکالیف اُٹھائی ہیں اور اس کے بدلہ میں وہ حکومت سے کبھی بھی کسی صلہ کی طالب نہیں ہوئی۔اس جماعت کا شروع سے یہ دستور العمل رہا ہے کہ حکومت وقت کی فرمانبرداری کرے اور ہرایک قسم کے فتنہ اور فساد سے بچے اور اس کے بانی نے ان شرائط میں جن پر عمل کرنے کا وعدہ کرنے پر ہی کوئی شخص اس سلسلہ میں شامل ہوسکتا ہے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ حکومت وقت کی پوری فرمانبرداری کی جائے اور بغاوت کے تمام راستوں سے اجتناب کیاجائے۔چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں اس جماعت کے افراد نے ہمیشہ فتنہ اور فساد سے اپنےآپ کو الگ رکھا ہے اوربہت سے دوسرے لوگوں کے لئے بھی نمونہ بنی ہے۔آج سے کچھ سال پہلے مسلمانوں میں سے وہ طبقہ جو علماء کے قبضہ میں تھا گو وہ عملاً امن پسند تھا اور گورنمنٹ کے راستہ میں کسی قسم کی رکاوٹیں نہ ڈالتا تھا مگر علماء کی تعلیم کے ماتحت وہ اس امر کو بالکل پسند نہیں کرتا تھا کہ کوئی شخص عقیدۃً اس امر کو تسلیم کرے کہ کسی غیر مذہب کی حکومت کے نیچے مسلمان اطاعت و فرمبرداری کے ساتھ رہ سکتے ہیں اور چونکہ جماعت نہ صرف عملاً ہر قسم کے فساد کے طریقوں سے دُور رہتی تھی بلکہ عقیدۃً بھی حکومت وقت کی فرمانبرداری کو ضروری جانتی تھی اور دوسروں کو بھی یہی تعلیم دیتی تھی اس بات کو نہایت بُرا منایا جاتا تھا اوربعض نادان علماء یہ خیال کرتےتھے کہ اس قسم کی تعلیم کی اشاعت سے مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ حربہ نکل جائے گا جس کےذریعہ سے وہ اسلام کی زندگی کو بچائے ہوئے ہیں اور جس کے سہارے پر ہی آئندہ کی ترقیات کی اُمیدیں اورانہوں نے فتویٰ دیدیا تھا کہ اس جماعت کے افراد کے ساتھ بولنا یا ان سے سلام کرنا یا ان کے ساتھ حُسنِ سلوک کرنا بالکل منع ہے بلکہ جو شخص ان کے ساتھ ہاتھ بھی ملائے وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا اور اس کے ساتھ بھی وہی سلوک کیاجائے گا جو ایک غیر مسلم سےہونا چاہئے۔عوام الناس کا ایک حصہ چونکہ اس قسم کی جوش دلانےوالی باتوں سے متأثر ہو جایا کرتا ہے یہ حربہ اس جماعت کے خلاف ایک حد تک کامیاب ثابت ہوا یعنی عوام الناس کے جوش اس جماعت کے