انوارالعلوم (جلد 6) — Page 460
مرکز سلسلہ قادیان میں سالانہ جلسہ کےلئےجمع ہوئے تھے میری تحریک پر اس امر کا فیصلہ کیا کہ ان کی طرف سے ایک تحفہ جناب کے سفر ہندوستان کی تقریب پر جناب کی خدمت میں پیش کیا جائے اور یہ تحفہ اس قسم کا ہو جس قسم کا تحفہ کہ سلسلہ احمدیہ کے بانی نے جناب کی جدّہ مکرمہ ملکہ وکٹوریہ۱ کو بھیجا تھا اورانہوں نے کمال شوق سے اس کو قبول کیا اور اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا تھا۔استجویز کےپیش ہونے پر غیرب اور امیر سب نے یک زبان ہوکر اس میں حصہ لینے کی خواہش ظاہر کی اور ہر ایک کا دل اس فرھت سے بھرگیا کہ اگر وہ آپ کو اپنےگھر پر نہیں بلاسکتا تو کم سےکم اس تحفہ کےذریعہ سے وہ اپنے خلوص کی یاد ہمیشہ کے لئے آپ کے دل میں تازہ کرتا رہے گا۔میرے مکرم شہزادہ ! یہ تحفہ ان چیزوں سے بنا ہوا نہیں جو زمین کی ہیں اور جن کے متعلق ڈر رہتا ہے کہ چوران کو چُرالے جائے یا زمین کے کیڑے اس کو کھا جائیں نہ یہ تحفہ ایسا ہے کہ جو آپ کے والد مکرم کےوسیع خزانوں میں ملتا ہو بلکہ یہ تحفہ ایسا نایاب ہےکہ اس وقت دنیا کے تمام بادشاہوں کے خزانے اس سے خالی ہیں اور بڑے بڑے بنکوں کی مجموعی دولت اس کے خریدنے سے قاصر ہے۔اسے شہزادۂ عالی قدر ! یہ تحفہ ایسا نادر ہے کہ باقی اموال اور امتعہ کی طرح مرتے وقت اسے اسی دُنیا میں چھوڑ کر جانا نہیں پڑتا بلکہ یہ مرنے کے بعد بھی انسان کےساتھ جاتا ہے اور اس جہان میں نہیں بلکہ اگلے جہان میں بھی کام آتا ہے۔اے شہزادہ ذی مرتبت ! پھر یہ ایسا تحفہ نہیں کہ مرنے والے کے ساتھ چلا جائے اور پچھلے ا س سے محروم رہ جائیں بلکہ یہ تحفہ اپنے اندر تقسیم در تقسیم کی خاصیت رکھتا ہےاور جس کے پاس یہ ہوتا ہے نہ صرف دونوں جہانوں میں اس کا ہی ساتھ دیتا ہے بلکہ اس کی اولاد اور پس ماندگان سے بھی علیحدہ نہیں رہتا اور باوجود تقسیم ہونے کے اس میں کمی نہیں آتی۔اے شہزادہ والا شان! اس تحفہ کی یہ خاصیت ہے کہ یہ جس کے پاس ہو اس کادل مضبوط ہوجاتا ہے اور اس کے اندر آسمانی نور کا دہانہ آکر کُھل جاتا ہے اور وہ شخص ہر قسم کی تاریکی سے بچ جاتا ہے اور خدا کے فرشتے اس پر رحمت کے پروں کا آکر سایہ کرتےہیں اور اگر وہ پہاڑوں کو کہے کہ چلو تو وہ چلنے لگتے ہیں اور اگر وہ دریاؤں کو کہے کہ مجھے اپنے اوپر چلنے دو تو وہ اسے چلنے دیتے ہیں اوراگر بیماروں کو کہے کہ اچھے ہوجائو تو وہ اچھے ہوجاتے ہیں اور دلوں کے اندھے اس کے کہنے کے مطابق دیکھنے لگتے ہیں اور روحانی مردے اس کے حکم پر زندہ ہوکر بیٹھ جاتے ہیں۔اور