انوارالعلوم (جلد 6) — Page 459
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِـسْمِ اللّٰـہِ الـرَّحْـمٰنِ الـرَّحِـیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ ھوالنّــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــاصر ہمارے ملک معظّم کے شہزادہ اور مملکت برطانیہ کے ولی عہد! میں آپ کو اپنی جماعت کے تمام افراد کی طرف سے ان کے امام اور بانئی سلسلہ کے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے ہندوستان میں آنے پر مبارک باد دیتا ہوں اور آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ جماعتِ احمدیہ حکومتِ برطانیہ کی کامل وفادار ہے اور انشاءاللہ وفادار رہے گی۔جماعت احمدیہ جس وقعت اور جس محبت اور جس پیار کی نظر سے تاجدار برطانیہ کو دیکھتی ہے اس کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو کسی کو نہایت عزیز اور محبوب رکھتے ہوں اور اس کے اور ان کے درمیان جدائی اور فراق کی ناقابل عبور خندق ہو جس کے عبور کرنے کا خیال بھی ان کےذہن میں نہ آسکتا ہو کہ اتنے میں وہ جس کی محبت ان کے دلوں پر نقش تھی اور جس کے ملنے کی انہیں اُمید نہ تھی اچانک خود ان کے پاس آپہنچے اور فراق کو وصل سے اور جُدائی کو لقاء سے بدل دے۔شہزادۂ معظم! آپ جماعت احمدیہ کے قلبی تعلق کا کسی قدر اندازہ اس امر سے لگا سکتے ہیں کہ جب اس جماعت نے دیکھا کہ وہ کسی طرح بھی جناب کو اپنے مرکز میں نہیں بلا سکتی اور آپ کی ملاقات سے مسرور الوقت نہیں ہوسکتی تو اس کےسات ہزار سے زیادہ نمائندوں نے جو دسمبر کے آخر ہفتہ میں