انوارالعلوم (جلد 6) — Page 452
بندہ خدا کا مہمان گویا ایسے بندے خدا کے مہمان ہوتے ہیں اور وہ ہر منزل پر ان کا استقبال کرتا ہے جب انسان مالکیت کی منزل پر ہوتا ہے تو خدا مالکیت کی شکل میں آتا ہےاور کہتا ہے آئیے۔جب رحیمیت کی منزل پر ہوتا ہے تو خدا رحیمیت کی شکل میں آتا ہے اور کہتا ہے آئیے۔جب انسان رحمانیت کی منزل پر ہوتا ہےتو اللہ جلّ جلالہٗ رحمانیت کی صورت میں آتا ہے اور فرماتا ہےآئیے۔رحمانیت کا مقام ایک نہایت ہی وسیع مقام ہے اس مقام پر کئی کئی باتیں انسان کو بتائی جاتی ہیں اور رحمانیت کے ساتھ جو ہدایت تعلق رکھتی ہے وہ سکھائی جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰن (الرحمٰن ۲،۳)رحمٰن نے قرآن سکھایا ہے۔یعنی کلام الٰہی کا نزول صفت رحمانیت سے تعلق رکھتا ہے۔اس مقام والا پیچھے نہیں ہٹتا۔خدا تعالیٰ نئے نئے اخلاق اسے سکھاتا ہے اور نئے نئے ترقی کے سامان اسے دیتا ہے۔رب العالمین بننا صفت رحمانیت کو حاصل کرنے پر جب بندہ پر خدا تعالیٰ کی صفت رحمانیت جلوہ کرتی ہے تو اس میں پھر ایک نیاجوش پیدا ہوتا ہے اسلئے وہ چاہتا ہے کہ اور اوپر چڑھےاس وقت اس کے لئے اگلی منزل آسان ہوجاتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ آؤ اب مَیں رب العالمین کی صفت کا بھی جلوہ گاہ بنوں۔رب کا کام جیسا کہ مَیں بتا چکا ہوں ماں باپ کے کام سے مشابہ ہوتا ہے۔ماں باپ یہ نہیں کیا کرتے کہ دُودھ گھرمیں رکھ دیں کہ بچہ آپ تلا ش کرکے پی لے گا بلکہ وہ یہ کرتے ہیں کہ بچہ کو خود تعہّد سے دودھ پلاتے ہیں اور اگر وہ نہ پئے تو جبراً پلاتے ہیں۔اسی طرح جب بندہ اس مقام پر آتا ہے تو لوگوں کے پیچھے پڑ پڑ کر انہیں ہدایت منواتا ہے اور اسی پر کفایت نہیں کرتا کہ صرف وعظ کردے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت آتا ہے کہ آپؐ ایک دفعہ طائف میں تشریف لے گئے وہاں کے لوگوں نے آپ ؐپر پتھر پھینکے اور آپ ؐواپس آگئے آتے ہوئےرستہ میں ایک جگہ سستانے لگے باغ والے نے اپنے گلام کے ہاتھ کچھ میوہ آپؐ کیلئے بھیجا آپؐنے میوہ کی طرف تو کم ہی توجہ کی اس غلام ہی کو تبلیغ کرنے لگ گئے٭اور آپ ؐکا یہ ہمیشہ دستور تھا کہ جہاں مکہ کے لوگ جمع ہوتے آپؐوہاں چلے جاتے اور انہیں تبلیغ کرتے حج کیلئے جو لوگ آتے انکے خیموں میں تشریف لے جاتے اورانہیں تبلیغ کرتے اور اسطرح نہیں کہ کوئی مل گیا تو اسے تبلیغ کردی بلکہ آپؐ تلاش کرتےپھرتے اور ڈھونڈ کر انہیں حق پہنچاتے جس طرح ماں باپ بچےکو تلاش کرکرکے کھلاتے پلاتے *سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ ص ۶۲