انوارالعلوم (جلد 6) — Page 448
کہ ان کو مد نظر رکھ کر فیصلہ کریں گے نہ ان سے باہر جائیں گے نہ ان کو چھوڑیں گے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خدا سالک کے گناہ مٹاتا جائے گا اور اگر کوئی غلطی ہوگی تو اسے نظر انداز کردے گا اوراس کا یہ فائدہ ہوگا کہ اس کے دل میں بدی سے نفرت پیدا ہوجائے گی۔اس کے بعد رحیمیت کی مشابہت میں یہ عادت پیدا کرنی چاہئے کہ ہر کام کرنے والے کو اس کے حق سے زیادہ دیاجائے۔مثلاً ایک شخص کسی کا نوکر ہو وہ یہ فیلہ کرے کہ میرا مالک جو تنخواہ مجھے دیتا ہے اور اس کے بدلے جتنے کام کی اُمید مجھ سے رکھتا ہے اس سے زیادہ کام مَیںکروں گا اور مالک یہ فیصلہ کرے کہ اس کام کی جتنی تنخواہ مقرر ہوئی ہے میں اس سے زیادہ سلوک ملازم سے کروں گا۔اگر آقا اور نوکر دونوں ایسے ہوں کہ اس اصل پر چلیں تو یہ بھی ایک قسم کا مقابلہ ہوگا مگر کیسا عجیب مقابلہ ہوگا جو صلح اورامن پیدا کردےگا۔صحابہؓمیں اس قسم کے واقعات ہوتے تھے ایک دفعہ ایک صحابیؓ اپنا گھوڑا بیچنے کے لئے آئے اورایک دوسرے صحابیؓ اسے خریدنے لگے گھوڑے کے مالک نےمثلاً دو ہرزد درہم قیمت بتائی اور لینے والے نے تین ہزار درہم۔بیچنے والا اس پر مُصر تھا کہ میں دو ہزار سے زیادہ نہ لوں گا کیونکہ میرا گھوڑا اس سے زیادہ قیمت کا نہیں ہے لیکن گھوڑاخریدنے والا کہتا تھا کہ مَیں تین ہزار سے کم نہ دوں گا کیونکہ یہ گھوڑا اس سے کم قیمت کا نہیں ہے۔اگر ساری دنیا کے لوگوں کی یہی حالت ہو تو خیال کرو کہ دُنیا کیسی خوبصورت بن جائے گی؟ یا مثلاً ایک مزدور ہے جو سمجھتا ہے کہ اتنی مزدوری میں مجھے اتنا کام کرنا چاہئے وہ اس سے زیادہ کرے اور جس نے اسے لگایا ہو وہ مقررہ مزدوری سے کچھ زیادہ دیدے یہی اصول زندگی کے ہر شعبہ میں برتنے کی کوشش کی جائے۔مگر سوال ہوسکتا ہے کہ ایک غریب شخص ہے وہ کیا کرے یا زمیندار ہے وہ کیا کرے؟ اس کا متعلق مَیں زمیندار وں ہی کی مثال دیتا ہوں۔مثلاً ایک زمیندار ہے جب وہ کھیت کاٹنے کے لئے لوگوں کو لگائے اور کہے کہ میں کاٹنے والوں کو اس قدر غلہ دوں گا اب اگر وہ اس غلہ سے زیادہ دے یا روٹی کھلا دے تو وہ گویا اس صفت پر عمل پیرا ہوجائیگا۔یامثلاًگنّے چھیلنے پر لگایا اوراس کے لئے مزدوری مقرر کی جو ادا کردی گئی مگر چلتے وقت اسے بچوں کے لئے گنے دے دیئے یا رس دیدی،شکر دیدی ،یہ رحیمیت ہوگی خواہ کتنی ہی تھوڑی چیز مزدوری سے زائد دی جائے وہ اس صفت کے ماتحت آئے گی۔پس تم میں سے ہر شخص اس صفت کو استعمال کر