انوارالعلوم (جلد 6) — Page 447
انوار العلوم جلد 4 ۴۴۷ هستی باری تعالی ڈالیں اور نتیجہ نہ نکلے اس لئے جب ان کا ظہور ہوتا ہے تو انسان کے اندر ضرور ہی نئی طاقت اور قوت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ جو میں نے بیان کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت اس پر جلوہ کرتی ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ جس طرح یہ لوگوں سے عفو کا معاملہ کرتا تھا خدا تعالیٰ بھی اس سے عفو کا معاملہ کرتا ہے اور چونکہ گناہ ہی ایک ایسی زنجیر ہے جو انسان کی روحانی ترقی کی رفتار کو سست کرتی رہتی ہے جب یہ زہ بخیر گھل جاتی ہے تو انسان کی روحانی ترقی کی رفتار تیز ہو جاتی ہے ۔ دنیاوی سفر میں تو یہ ہوتا ہے کہ پہلے لوگ تیز چلتے ہیں اور پھر جوں جوں تھکتے جاتے ہیں آہستہ چلنے لگتے ہیں مگر خدا کی منزلیں ایسی نہیں کہ پہلے انسان آہستہ چلتا ہے اور پھر تیز کیونکہ اسے ہر قدم پر نئی طاقت ملتی جاتی ہے ۔ صفت مالکیت پیدا کرنے کا فائدہ اگر لوگ ملک یوم الدین کی صفت کو اپنے اندر پیدا کر لیں تو پھر سارے جھگڑے ختم ہو سکتے ہیں لوگوں میں لڑائی اس لئے ہوتی ہے کہ وہ حجی کی طاقتوں کو غلط طور پر استعمال کرتے ہیں اگر انہیں صحیح طور پر استعمال کریں تو کبھی لڑائی نہ ہو۔ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر زیادہ اللہ ہوں تو فساد ہو جائے اور ادھر فرماتا ہے کہ بحرو بر میں فساد پیدا ہو گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت زیادہ اللہ بن گئے تھے یعنی لوگ خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کے ماتحت اپنی قضاء کو کرنے کی بجائے اس صفت کو مستقل طور پر استعمال کرنے لگ گئے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ لڑائی اور فساد پیدا ہو گیا ۔ اس آیت میں اسی طرف اشارہ ہے کہ فساد ہمیشہ خدا تعالیٰ کی صفات سے علیحدگی اور مستقل پالیسی اختیار کرنے سے پیدا ہوتا ہے ۔ حضرت مسیح نے کہا ہے جو اپنے لئے پسند نہیں کرتے وہ دوسرے کے لئے بھی پسند نہ کرو۔ اگر کوئی یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اس کا مال چرائے تو اس کو بھی چاہئے کہ کسی کا نہ چرائے ، اسلام نے بھی ایسی باتیں کہی ہیں مگر ادنی درجہ کے لوگوں کے لئے اور اعلیٰ لوگوں کے لئے یہ کہا ہے کہ اور یہ نہ دیکھو دوسرا کیا کرتا ہے بلکہ یہ دیکھو کہ خدا کیا کرتا ہے جو کچھ خدا کرتا ہے وہی تم کرو خدا چونکہ غلطی نہیں کرتا اس لئے انسان جب اس کی اتباع کرے گا تو وہ بھی غلطی سے بچ جائے گا ۔ بندہ کا درجہ رحیمیت پانا صفت مالکیت بیچ کی طرح ہے اس سے اوپر رحیمیت کا درجہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کام سے بڑھ کر بدلا دیا۔ پہلے وہ سات باتیں اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں اور یہ فیصلہ کرلینا چاہئے