انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 439

انوار العلوم جلد 4 ۴۳۹ هستی باری تعالی ایک یہ کہ نیت کرے اور اخلاص اس کے اندر ہو۔ دوسرے یہ کہ سستی اور غفلت ترک کرے۔ کہ تمیرے یہ کہ بات کو سوچنے کی عادت ڈالے اگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو کامیاب نہ ی ہے کہ بات کو سوچنے کی عادت والے اگر نہیں ہے کو ایک بھی نہ ہوتو کیا ان میں ہو گا۔ اگر کسی کی نیت نیک نہ ہو تو کوئی اسے نوکر نہیں رکھنا اگر کوئی سمت ہو تو بھی اسے کوئی نہیں رکھتا اور اگر بات کچھ کہی جائے اور سمجھے کچھ اور تو بھی نہیں رکھتا ۔ پس تو بہ کے ساتھ یہ تینوں باتیں بھی ہوئی ضروری ہیں اور جو لقائے الہی کے خواہشمند ہوں انہیں فوراً یہ باتیں پیدا کرنی چاہئیں ۔ خدا تک پہنچنے کا رستہ اس کے بعد میں لقاء کے متعلق موٹا طریق بتاتا ہوں او تفصیل کو چھوڑ دیتا ہوں کیونکہ تفصیل کی گنجائش نہیں ۔ " یاد رکھو کہ لقاء کا مطلب خدا تک پہنچنا ہے اور تک کا لفظ اسی وقت بولا جاتا ہے جبکہ در میان راستہ ہو جسے ہم نے طے کرنا ہو ہیں ہمیں لقاء کے لئے راستہ تلاش کرنا پڑے گا جس پر چل کر ہم اس مقصد کو حاصل کر سکیں ۔ چونکہ اس مقصد کو صرف قرآن کریم ہی پورا کر سکتا ہے اس لئے ہم اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اس مضمون پر اس میں مکمل روشنی ڈالی گئی ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِه مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيم (الفاتح: ۲ تا ۶) ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ مؤمن اللہ تعالیٰ سے ایک راستہ دکھانے کی درخواست کرتا ہے پھر دوسری جگہ آتا ہے ۔ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ (الاعراف: ۱۷) وہ راستہ مجھے دکھا جو تیری طرف سیدھا چلا آتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ سورہ فاتحہ میں جس راستہ کے دکھانے کی دعا سکھائی گئی ہے وہ وہی راستہ ہے جو سیدھا خدا تک پہنچتا ہے اب یہ سوال ہے کہ وہ کونسا راستہ ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کے بہت سے راستے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت :) جو لوگ ہماری ملاقات کے لئے کوشش کرتے ہیں ہم انہیں یقینا اپنے تک پہنچنے کے راستے بتا دیتے ہیں مگر ان سب راستوں سے ایک مکمل اور محمل راستہ ہے جسے ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہنے اور وہ راستہ وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں بتایا گیا ہے۔ عقل کہتی ہے جب خدا تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں راستہ کے دکھانے کی دعا سکھائی ہے تو پہلے راستہ بھی بتایا ہو گا تبھی اس کے بعد یہ دعا