انوارالعلوم (جلد 6) — Page 431
انوار العلوم جلد 4 ۴۳۱ هستی باری تعالی بلکہ ترقی کا ایک ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعہ سے انسان ترقی کرتا ہے کیونکہ موت کے بعد ہی انسان ان وسیع قوتوں کو پاتا ہے کہ اس دنیا کی عمر بھر کی ترقی اُس دنیا کے گھنٹوں کی ترقی کے برابر نہیں اتر سکتی۔ خدا کی مخلوق کی وسعت قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا تكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا - ( الكهف : ۱۱۰) که اگر سمندر سیاہی بن جائیں اور ان سے خدا تعالیٰ نے جو علوم بنائے ہیں انہیں لکھنا شروع کیا جائے تو سمند رختم ہو جائیں گے مگر یہ نہیں ہو گا کہ خدا کے بنائے ہوئے علوم ختم ہو جائیں ۔ خدا کے منکر تو ایک ایک ذرہ پر خوش ہوتے ہیں کہ ہم نے یہ بات معلوم کرلی اور یہ معلوم کر لی لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ اگر تم تحقیقاتیں کر کر کے ان کو سمندر سے لکھتے جاؤ تو پھر بھی خدا کے خزانے ختم نہ ہوں گے یہ انسانی نقطہ نگاہ کے مطابق غیر محدود ترقی علوم صفت واسع کے ماتحت ہے ۔ پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ ہماری دنیا کی چیزیں تو ختم ہو جاتی ہیں ۔ مثلاً کو مکہ ہے اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ تک یہ ختم ہو جائے گا ؟ ہمارے ملک میں کوٹلہ کے ختم ہونے کے نتائج کو اچھی طرح نہیں سمجھا جا سکتا۔ مگر یورپ کے اکثر کام چونکہ اس کی مدد سے ہو رہے ہیں وہ اسے بہت بڑی مصیبت سمجھتا ہے غرض کہا جاتا ہے کہ اگر کوٹلہ یا تیل ختم ہو جائے تو پھر دنیا کیا کرے گی اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن میں خدا تعالیٰ کے متعلق آتا ہے کہ وہ کفایت کرنے والا ہے اقرآن میں تو یہ صفت فعل کے طور پر استعمال ہوئی ہے لیکن رسول کریم نے اسم کے طور پر اسے استعمال کیا ہے یعنی خدا کا نام کافی بتایا ہے اب دیکھ لو اگر ایک چیز ختم ہونے لگتی ہے تو اس کی قائم مقام اور نکل آتی ہے کو ٹلہ ختم ہونے لگا تو تیل نکل آیا اب تیل کے ختم ہونے کا ڈر پیدا ہوا تو ایسی تحقیقاتیں ہورہی ہیں کہ سورج کی شعاعوں سے یہ کام لے لیا جائے تو دنیا جب گھرا اٹھتی ہے کہ اب مرے اس وقت مؤمن ہنستے ہیں کہ یہ لوگ کیسے نادان ہیں خدا کوئی اور سامان ضرور کریگا چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ در حقیقت صفات الہیہ کو ماننے والا انسان ایک وسیع پلیٹ خدا کو قادر ماننے کا اثر فارم پر کھڑا ہوتا ہے اورساری دنیا اسکی نظروں میں حقیر ہوتی ہے ۔ مثلاً جو شخص خدا تعالیٰ کی صفت قدرت پر یقین رکھتا ہے وہ یہ بھی یقین رکھے گا کہ خدا نے ہر چیز کے اندازے اور قواعد مقرر کئے ہوئے ہیں یہ سمجھ کر وہ سارے بیہودہ ٹونے ٹوٹکوں سے