انوارالعلوم (جلد 6) — Page 430
انوار العلوم جلد 4 ۴۳۰ هستی باری تعالی ہو یہ تو ایک نہر ہے اسے دریا کون کہ سکتا ہے۔ اس پر گاڑی بان کو اس قدر اشتعال آیا کہ مسافر کو کہنے لگا کہ تو بالکل جھوٹا انسان ہے اب میں تجھ سے بات ہی نہیں کروں گا۔ اہل یورپ ایک محدود دائرہ میں میں حالت ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں صفات الیہ نے گھر نہیں کیا ان کا دائرہ علم بہت محدود ہوتا ہے۔ یورپ والے علم علم کہتے ہیں لیکن وہ بھی کیسے محدود دائرہ میں گھرے ہوئے ہیں ذرا کوئی نئی بات نکال لیتے ہیں تو شور مچا دیتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوا کہ خدا نہیں ۔ گویا کہ اگر دنیا ایک جاہلانہ اصول پر چلتی ہے تو خدا ہے اور اگر اس کے کام میں کوئی نظام اور قاعدہ نظر آتا ہے تب کوئی خدا نہیں وہ نادان نہیں جانتے کہ خدا تعالیٰ کا تو ہر فعل حکمت پر مبنی ہے اور اس کے بنائے ہوئے تمام قوانین مضبوط اور باریک نظام پر مشتمل ہیں ابھی انہوں نے دریافت ہی کیا گیا ہے ۔ مثلاً ان لوگوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ انسان بحیثیت ذات ایک مفرد وجود نہیں بلکہ انسانی نسیم باریک ذرات سے بنا ہوا ہے جو خود اپنی اپنی زندگی رکھتے ہیں گویا یہ ذی حیات وجود کی بستی ہے اور پھر اس سے بڑھ کر انہوں نے یہ دریافت کیا ہے کہ وہ ذرات جن سے انسان بنا ہے خود باریک ذرات سے مل کر بنے ہیں گویا وہ خود مرکب ہیں ان امور سے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ عالم وجود ایک قانون کے ماتحت بنا ہے اس لئے معلوم ہوا کہ اس کا بنانے والا کوئی نہیں ۔ مگر کیا یہ عجیب بات نہیں کہ یہ تو دو قدم مبدأ حیات کی طرف جا کر اس قدر پھول گئے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ انسان اور خدا کے درمیان ستر ہزار حجاب ہیں۔ یعنی کثیر التعداد واسطے در واسطے چلے جاتے ہیں تب کہیں جا کر امر محض تک پیدائش عالم کا سلسلہ پہنچتا ہے اس علم کے مقابلہ میں یورپ کی تحقیق کسی قدر حقیر ٹھہرتی ہے بلکہ جہالت نظر آتی ہے ۔ موت کے ذریعہ ترقی اہل مغر ب کار تحقیق پرپر شور مچا اہل مغرب کا ہر تحقیق پر یہ شور مچا دینا کہ انہوں نے پیدائش عالم کی گویا کہ وجہ دریافت کر لی ہے اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ وہ علم کو محدود سمجھتے ہیں ورنہ اگر وہ ہی جھیں کہ ابھی تو غیر محدود علوم پیچھے چھپے پڑے ہیں تو اس قدر خوش کیوں ہوں اور اترائیں کیوں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ نے کس طرح ایک صفت اللہ پر قیاس کر کے علوم کے غیر محدود ہونے کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ مگر آپ نے ایک شرط ساتھ لگائی ہے اور وہ یہ کہ موت کا کوئی علاج نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ موت ترقی کے راستہ میں روک نہیں