انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 30

انوار العلوم جلد 4 ٣٠ موازنه مذاہب دنیا کی حالت دنیا میں تغیرات آرہے ہیں جنگوں نے دنیا کو بے حال کر رکھا ہے اور زلزلوں نے زیر زبر کردیا ہے۔ بیماریاں ہلاکت کے ہاتھ پھیلا رہیہیں اور ہ دنیا کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک دنیا اصلاح کی طرف نہیں آئیگی غفور تو کرد که خدا رحمن درسیم ہے۔ پھر وہ کیوں اس قدر پر درد عذاب دنیا پر بھیج رہا ہے ۔ اگر دنیا کی حالت اچھی ہو تو خدا کیوں اس کو بھٹی میں ڈالے ۔ وجہ یہی ہے کہ لوگ خُدا کے مامور نبی کا انکار کر رہے ہیں اور اب تک کر رہے ہیں معمولی بادشاہ یا لیڈر کا حکم ٹالا جائے تو لوگ نقصان اُٹھاتے ہیں۔ پھر جب خدا کے ایک مامور کی ہتک ہو اور خدا کی نافرمانی ہو پھر دنیا کیسے ان میں رہ سکتی ہے۔ دنیا آج جن عذابوں میں مبتلا ہے۔ آج سے چالیس سال پہلے ان عذابوں کا نام و نشان نہ تھا۔ لیکن آج ایسے عذاب آرہے ہیں کہ لوگ حیران ہیں ۔ ایک بزرگ کا قول ہے وہ کہتے ہیں کہ جب میرا گھوڑا اڑتا ہے تو میں سمجھ لیتا ہوں کہ میں نے خدا کی نافرمانی کی۔ کیونکہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی نہ کرتا تو میرا جانور میری نافرمانی نہ کرتا ۔ لیکن آج لوگ استقدر نفس پرستیوں میں غرق ہیں اسقدر خدا ان کو بھولا ہوا ہے کہ وہ اپنے گھوڑے کے اڑنے سے نصیحت کیا لیتے خود ان پر عذاب کے ہزاروں کوڑے پڑ رہے ہیں ۔ مگر پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ کیا لوگوں کے دل مر گئے ۔ کیا ان کے کان میں کسی دردمند کی نصیحت کی آواز نہیں جاتی اور دل پر اثر نہیں کرتی۔ نصیحت میں آپ کو درد مند دل کیسا تھ اور خیر خواہ قلب کے ساتھ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے ایمان کی فکر کرو اور اپنی حالت پر غور کرو اپنے اعمال سے اسلام کی تنگ نہ کرو اور اس کو جھوٹا ثابت نہ کرو۔ ذرا اپنی اصلاح کرو۔ خدا کی نشانیوں کو غور سے دیکھو۔ اسلام کے لئے شرم کا موجب نہ بنو۔ بلکہ فخر کا موجب بنو اور اپنی اصلاح کی فکر کرو۔ اللہ تعالیٰ آپ کو سمجھ دیوے ۔ اسلام سچا ہے اس کی سچائی دنیا میں پھیلے گی ۔ خدا سے توفیق چاہو اور اسلام کی صداقت ثابت کرنے کا موجب بنو - ور نہ یاد رکھو تم اپنی موجودہ حالت میں اسلام کو جھوٹا ثابت کر رہے ہو۔ اس سے ثابت ہے کہ اسلام تم میں نہیں ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ اسلام تمہیں بلند نہ کرتا ۔ تم اسلام کو مانتے ہو تو سوچ سمجھ کر مانو اور ہر ایک مذہب والے کو بھی میں یہی نصیحت کرتا ہوں کہ وہ غور کرے کہ وہ اپنے مذہب کا پابند ہے تو کیوں ہے ۔ اللہ تعالی آپ سب لوگوں کو حق کے قبول کرنے کی توفیق دے ۔ آمین ( الفضل و رمئی ۱۹۲۱ء )