انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 422

معلوم ہوتے ہیں۔رؤیت الٰہی کا پہلا درجہ ایک تو وہ درجہ ہے جس میں منافق بھی شامل ہیں۔حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کو جب حشر میں لوگ کھڑے کئے جائیں گے تو ان کو آواز آئے گی کہ صلیب کے متبع اس کے پیچھے اور بتوں کے پُجاری بتوں کے پیچھے اور دوسرے مشرک جن جن کو خدا کا شریک مقرر کرتے تھے ان کے پیچھے چل پڑیں اور یہ چیزیں ان کے لئےمتمثل کرکے لائی جائیں گی ان کے پجاری ان کے پیچھے چلے جائیں گے۔ان کے جانے کے بعد مسلمان باقی رہ جائیں گے یعنی ساری اُمتوں کے مسلمان ان کے ساتھ منافق بھی ہوں گے تب خدا آئے گا اورایسی شکل میں آئے گا کہ جسے بندے پہچانتے ہوں گے اور کہے گا کہ مَیں خدا ہوں میرے پیچھے آئو وہ کہیں گے نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْکَ نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْکَ اَللہُ رَبُّنَا ہم تیرے پیچھے نہیں چلتے اور ہم خدا کی پناہ مانگتے ہیں پھر خدا تعالیٰ غائب ہو جائے گا اور کسی دوسری شکل میں جلوہ گری کرے گا اور کہے گا میرے پیچھے آئو اس وقت وہ کہیں گے ھٰذَا مَکَانُنَا حَتَّی نَرَی رَبَّنَا کہ ہم تیرے متبع نہیں اور ہم یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک خدا تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں٭۔یہ ظاہر ہونے والا وجود بھی درحقیقت خدا تعالیٰ کی متمثل صفات ہی ہوں گی اس لئے اس کا دیکھنا بھی خدا کا دیکھنا ہی ہے اور منافق اس رئویت میں مؤمنوں کے شریک ہوں گے لیکن کافر اس سے بھی محروم رہیں گے جس طرح منافقوں نے ظاہر میں اسلام کو دیکھا ہوتا ہے حقیقی طور پر نہیں دیکھا ہوتا اسی طرح جب خدا تعالیٰ اپنی اصلی صفات میںجوہ گر نہیں ہوگا بلکہ اس کی صفات تنزل کا ایک نہایت ہی کثیف پردہ اوڑھے ہوئے ہونگی جیسے کہ خواب میں بعض لوگ خدا تعالیٰ کو باپ کی شکل میں دیکھ لیتے ہیں اور جس کے متعلق کہ بندہ کو خیال بھی نہیں آسکے گا کہ یہ خدا کا جلوہ ہے۔اس وقت تو منافق دو قسم کی تجلی دیکھ لیں گے مگر جب پھر اس کے بعد خدا آئیگا اوراعلیٰ تجلی کرکے کہے گا کہ سجدہ کرو۔اورسب اس کے آگے جھکیں گے تب منافقوں کی آنکھیں چندھیا جائیں گی اور وہ سجدہ کرنے کی کوشش کریں گے مگر جھک نہ سکیں گے۔تب ان کو کہا جائے گا کہ تم میرے لئے عبادت نہ کرتے تھے اس لئے آج حقیقی تجلی پر عبادت کی توفیق چھینی گئی۔*ترمذی أبواب صفة الجنہ باب ماجاء فی خلود الجنة و اھل النار