انوارالعلوم (جلد 6) — Page 418
انوار العلوم جلد 4 ۴۱۸ ہستی باری تعالیٰ مانتے ہیں کہ موسی کو خدا کی رویت سے غش آگیا تھا تو ہم کہتے ہیں تم تو کہتے ہو رؤیت نا ممکن ہے پھر نا ممکن کو دیکھنے کا کیا مطلب؟ دیکھو یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ سورج کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا گئیں مگر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ علم کو دیکھ کر آنکھیں چندھیا گئیں پس پیغش والا لفظ بتاتا ہے کہ کوئی ایسی چیز تھی جسے انہوں نے دیکھا اور جب انہوں نے کچھ دیکھا تھا گو اس سے بیہوش ہی ہو گئے ہوں مگر یہ تو معلوم ہو گیا کہ اس کا دیکھنا انسانی طاقت میں ہے۔ پھر ہم کہتے ہیں اس آیت میں یہ کہاں لکھا ہے کہ خدا نے حضرت موسی پر تجلی کی۔ تجلی تو جبل پر کی ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ کی تجلی ادنی مخلوق پر آسکتی ہے اور وہ برداشت کر سکتی ہے تو انسان جو اعلیٰ مخلوق ہے اس پر کیوں نہ آئی اگر کہو کہ پاڑہ میں جو مخفی طاقتیں تھیں ان میں خدا ظاہر ہوا تو پھر حضرت موسی نے اس تجلی کو دیکھا کس طرح ؟ اگر کہا جائے کہ حضرت موسی زلزلہ سے ڈر گئے تھے تو ہم پوچھتے ہیں کیا مومن اور خاص کر نبی ہم ایسے ہی بزدل ہوتے ہیں اور اگر یہی بات تھی تو انہوں نے بیہوشی سے اُٹھ کر یہ کیوں کہا کہ آنا ۔ أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ وہ کس چیز پر ایمان لائے تھے ؟ کیا اس بات پر کہ میں زلزلہ دیکھ کر ڈر گیا تھا ۔ ان الفاظ کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں اس رسول پر جس پر تیری اس شان سے تجلی ہونے والی ہے سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں ۔ چنانچہ قرآن کریم میں حضرت موسی کی نسبت آیا بھی ہے کہ فَا مَنَ وَاسْتَكْبَرْتُم وہ تو ایمان لے آیا مگر تم نے تکبر کیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی وجہ سے فرماتے ہیں کہ کو كَانَ مُوسى وَعِيسَى حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتبا على اليواقيت والجواهر جلد نمبر ۲ صفحه ۲۲ که اگر حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی زندہ ہوتے تو ان کو میری اتباع کے سوا چارہ نہ تھا ۔ حضرت موسی کی توبہ اور اگر کہا جائے کہ اگر اس کا یہ مطلب ہے تو حضرت موسی کیے تو بہ کرنے کے کیا معنی ہوئے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جو معنے تم توبہ کرتے ہو اس پر بھی یہی اعتراض پڑتا ہے کیونکہ اگر اس کے معنی گناہ سے توبہ کرنے کے ہیں تو انہوں اگر سے کے نے کیا گناہ کیا تھا ؟ اگر نظارہ کے دیکھنے کی درخواست کرنا گناہ ہوتا تو خدا تعالیٰ اسی وقت ڈانٹ کیا تھا ؟ اگر نظارہ دیتا جس طرح حضرت نوح نے جب اپنے بیٹے کے لئے دُعا کی تو خدا تعالیٰ نے ان کو روک دیا۔ تو چاہئے تھا کہ خدا تعالیٰ ان کو بھی منع فرما دیتا کہ ایسی بات مت کہو نہ یہ کہ جس طرح انہوں نے چاہا اسی طرح کرنے لگ جاتا ۔ پس تُبْتُ اکیٹ کے معنے گناہ سے توبہ کرنے کے نہیں ہیں بلکہ اس