انوارالعلوم (جلد 6) — Page 417
کا نام انگارہ رکھا گیا اور یہ جو حضرت موسٰی نے کہا کہ مَیں لاتا ہوں یا ہدایت پاکر آتا ہوں تو اس کا مطلب یہ تھا کہ حضرت موسٰی نے اس وقت تک یہ نہیں سمجھا تھا کہ یہ جلوۂ نبوت ہے یا جلوۂ ولایت اس لئے انہوں نے اپنے اہل سےکہا کہ اگر وہ ہدایت ِنبوت ہوئی اور حکم ہوا کہ دوسروں کو بھی تعلیم دو تو تمہارے لئے بھی لاؤں گا اور اگر ہدایتِ ولایت ہوئی جو اپنے لئے ہوتی ہے تو میں خود ہداہت پاجائوں گا۔پس جب وہ وہاں گئے تو معلوم ہوا کہ جلوۂ الٰہی ہے اور کہا گیا کہ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ یعنی دنیاوی تعلقات چھوڑ۔دو پس جب وہ وہاں جلوۂ الہٰی دیکھ کر آئے تھے تو انہیں شک ہی کسی طرح ہوسکتا تھا کہ رؤیت ہوسکتی ہے یا نہیں اوراگر کہا جائے کہ طُور پر ان کی مراد رئویت سے ذات کی رؤیت سے تھی تو یہ حضرت موسٰی پر اتہام ہوگا کیونکہ وہ شخص جو فرعون سے لمبے عرصہ تک خدا تعالیٰ کے وراء الوریٰ ہونے پر بحث کرتا رہا ہے کیا ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ یہ مطالبہ کرے کہ مَیں خدا تعالیٰ کی ذات کی حقیقی رؤیت کرنا چاہتا ہوں۔ایسا سوال تو پاگل کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔حضرت موسٰی نے کس رؤیت کیلئے سوال کیا؟ اس پر سوال ہوتا ہے کہ پھر انہوں نے رؤیت کے لئے سوال کیوں کیا؟ اگر کہا جائے کہ جس طرح اچھی چیز کو انسان بار بار دیکھنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح انہوں نے کیا تو کہتے ہیں کہ پھر یہاں کیوں بیہوش ہوگئے؟ پہلی دفعہ کیوں بیہوش نہ ہوئے تھے؟ میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس مقام پر حضرت موسٰی کو بتایا تھا کہ ہمارا ایک رسول محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) تیرا مثیل ہوکر مگر تجھ سے بہت اعلیٰ شان میں آئے گا اس خبر کو معلوم کرکے حضرت موسٰی کے دل میں طبعاً یہ خواہش کی کہ مجھے بھی جلوۂ محمدی دکھایا جائے مَیں بھی تو دیکھوں کہ اس وقت آپ کس شان سے ظاہر ہوں گے؟ خدا تعالیٰ نے فرمایا تو اس کے جلوہ کوبرداشت نہیں کرسکے گا چنانچہ خدا تعالیٰ نے انکی خواہش تو پوری کردی مگر وہ اسے برداشت نہ کرسکے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جلوہ کو برداشت کرلیا کیونکہ آپ کو وہ اصل مقام تھا۔لیکن اگر یہ معنے بھی نہ کئے جائیں تب بھی رؤیت کا امکان ثابت ہے کیونکہ منکرین رؤیت