انوارالعلوم (جلد 6) — Page 416
کہا تو ہرگز نہیں دیکھے گا اور کہا کہ پہاڑ کی طرف دیکھ اگر وہ ٹھہرا رہا تو تم بھی دیکھ لو گے لیکن جب پہاڑ پر بجلی گری اور وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا تو حضرت موسٰی بیہوش ہوگئے اور جب انہیں افاقہ ہوا تو کہا اے اللہ تُو پاک ہے مَیں توبہ کرتا ہوں اورسب سے پہلا مؤمن بنتا ہوں۔اس سے معلوم ہوا کہ رویت الٰہی ناممکن ہے کیونکہ حضرت موسٰی نے اس کی خواہش کی مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی اور وہ بیہوش ہوگئے۔پہلا جواب اس کا یہ ہے کہ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ رؤیت الٰہی نہیں ہوسکتی درست نہیں کیونکہ جواب میں یہ نہیں کہا گیا کہ تو اسی دُنیا میں نہیں دیکھ سکے گا بلکہ کہاگیا ہے کہ لَنْ تَرٰنیِ تو مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکے گا اب اگر اس کے یہ معنی ہیں کہ رؤیت الٰہی ناممکن ہے تو پھر اگلے جہان میں بھی وہ ناممکن ہوگی اس لئے جو لوگ اگلے جہان میں رؤیت کے قائل ہیں انہیں بھی اس آیت کی کوئی توجیہہ کرنی پڑے گی۔دوسراجواب یہ ہے کہ حضرت موسٰی جو خدا تعالیٰ کے نبی تھے کیا وہ یہ نہ سمجھ سکتےتھےکہ رؤیت الٰہی ممکن ہے یا نہیں اگر کوئی اورمعمولی بات ہوتی تو اوربات تھی مگر یہ تو ایسا مسئلہ تھا کہ جس دن حضرت موسٰی نے نبوت کا دعویٰ کیا اسی دن پتہ لگ جانا چاہئے تھا مگر معلوم ہوتاہے کہ حضرت موسٰی کو پہلے رؤیت ہوئی تھی۔چنانچہ آتا ہے وَہَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ مُوْسٰى اِذْ رَاٰ نَارًا فَقَالَ لِاَہْلِہِ امْكُـثُوْٓا اِنِّىْٓ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّيْٓ اٰتِيْكُمْ مِّنْھا بِقَبَسٍ اَوْ اَجِدُ عَلَي النَّارِ ھدًى فَلَمَّآ اَتٰىھا نُوْدِيَ يٰمُوْسٰى اِنِّىْٓ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ۰ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى وَاَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوْحٰى (طٰہٰ ۱۰ تا ۱۴) حضرت موسٰی نبی ہونے سے قبل آرہے تھے کہ انہوں نے آگ کی روشنی دیکھی اورسمجھ گئے کہ یہ جلوۂ الٰہی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے جب اس نے اس کو دیکھا تو اپنے اہل کو کہا کہ مَیں نے ایک آگ دیکھی ہے یہ ایک کا لفظ بتاتا ہے کہ موسٰی جانتے تھے کہ یہ کشفی نظارہ ہے ورنہ وہ کہتے کہ وہ دیکھو آگ نظر آرہی ہے اور جب کشفی نظارہ تھا تو اس سے مراد جلوۂ الٰہی ہی ہوسکتا ہے اور آگے جو لفظ قبیس وغیرہ کے استعمال کئے گئے ہیں وہ بھی حقیقی آگ پر دلالت نہیں کرتے کیونکہ جب کسی چیز کو کسی اور چیز سے تشبیہ دی جاتی ہے تو اس کی صفات کو بھی اس کی نسبت استعمال کیا جاتا ہے جیسے کہ کسی کو شیر کہیں تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ شیر کی طرح تقریر کرتا ہے بلکہ یہ کہ شیر کی طرح چنگھاڑتا ہے۔پس چونکہ جلوۂ الٰہی کا نام آگ رکھا گیا تھا اس لئے اس کے آثار وغیرہ