انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 412

رہا ہے خدا تعالیٰ نے قانون رکھا ہے کہ انسان کے دماغ کا حال دوسرے کو معلوم نہ ہو۔انسانی دماغ میں بیسیوں گندے خیال گذرتے ہیں اگر یہ صفت نہ ہوتی تو لوگ آپس میں ہروقت لڑتے جھگڑتے رہتے۔کوئی کسی کو ملنے کے لئے جاتا مصافحہ کرتا اور اسے مارنے لگ جاتا کہ تمہارے دل میں میرے متعلق فلاں بُرا خیال آیا تھا۔اسی طرح میاں بیوی کے دل میں ایک دوسرے کے متعلق کبھی کوئی بُرا خیال آتا تو وہ ایک دوسرے کو معلوم ہوجاتا اوران کی محبت میں فرق آجاتا۔تو خدا تعالیٰ کی ستاری کی صفت بھی ہر وقت اپنا عمل کررہی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ کی غفاری کی صفت ہے ہم دیکھتے ہیں کہ دُنیا میں برابر گناہ ہورہے ہیں کہیں جسمانی اور کہیں شرعی جس طرح کھانے میں کبھی بے احتیاطی ہوجاتی ہے اسی طرح انسانی جسم کےذرّات بھی غلطیاں کرجاتے ہیں بیماریوں کے کیڑے جسم میں داخل ہوتے رہتے ہیں مگر ان بے اعتدالیوں میں سے اکثر کے اثر کو خدا تعالیٰ کی صفت رحمت آپ ہی آپ مٹاتی رہتی ہے صحت پیدا کرنے والے اجزاءفوراً بیماری کے اثرات کو مٹا دیتے ہیں بیماری کے کیڑوں کے مقابلہ میں ان کو ہلاک کرنے والے کیڑے یا زہر پیدا کردئیے جاتے ہیں۔معترضین اعتراض کرتے ہیں کہ خدا نے انسان پر کیا رحم کیا مگر طب سے پتہ لگتا ہے کہ ننانوے فیصدی بیماریاں ایسی ہوتی ہیں جن کی انسان کے اندر ہی اندر اصلاح ہوجاتی ہے تو ایک تو صفات الٰہیہ کا ظہور ہر آن میں ہورہا ہے اور وہ کسی وقت معطل نہیں ہوتیں مثلاً خدا تعالیٰ سمیع ہےا گر کوئی منہ سے دُعا نہیں کرتا تو اس کا ذرّہ ذرّہ خدا تعالیٰ سے مدد کی التجاء کر رہا ہوتا ہے پھر وہ مجیب ہے وہ ہر ایک عضو کی پُکار کو سنتا ہے۔دوسرا حصہ صفات کا یعنی جو بلانے سے ظاہر ہوتا ہے دو قسم کا ہے ایک وہ جس کی مدد قانون قدرت کےذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے دوسرا وہ جس کی مدد قانون قدرت نہین بلکہ قانونِ شریعت کے ذریعہ سے حاصل کی جاتی ہے۔قانونِ قدرت کےذریعہ سے جن صفات کی مدد حاصل کی جاتی ہے ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کوئی کھانا پکاتا ہے تو ضرور اس کا کھانا پک جائیگا۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت تو ظاہر ہوگئی لیکن اس کا ظہور انسانی فعل کے نتیجہ میں ہوگا یا مثلاً ستاری کی صفت کو لے لو اس صفت کے ظہور کے لئےخدا تعالیٰ نےایک قانون بنارکھا ہے اگر اس کے ماتحت کوئی شخص چوری بھی کرے گا تو بچ جائے گا ،مثلاً اندھیرے میں چوری کرے اس امر کی احتیاط کرے کہ کوئی دیکھتا نہ ہو لیکن اگر اس قانون کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کی