انوارالعلوم (جلد 6) — Page 405
انوار العلوم جلد 4 ۴۰۵ هستی باری تعالی کیا خدا کی صفات ایک دوسری کے متضاد ہو سکتی ہیں ؟ پھر یہ سوال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی صفات ایک دوسری کے متضاد ہیں تو ان کا عمل کس طرح ہوتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک وجود میں دو باتوں کا پایا جانا تضاد نہیں ہوتا ۔ تضاد تو یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک چیز آجائے تو دوسری - نہ ہو سکے اور یہ بات خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق نہیں کی جا سکتی ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر خدا رحیم ہے تو پھر شدید العقاب کیونکر ہو سکتا ہے ؟ اگر رحیم ہے تو وہ شدید العقاب نہیں ہو سکتا اور اگر شدید العقاب ہے تو رحیم نہیں ہو سکتا۔ ہم کہتے ؟ کہتے ہیں کہ اس اعتراض کے اٹھانے والے اپنے متعلق ہی غور کریں ۔ اگر کوئی شخص کے کہ فلاں شخص رحم دل ہے لیکن دوسرا شخص جواب دے کہ نہیں وہ رحم دل نہیں کل میں نے اسے اپنے لڑکے کو مارتے دیکھا تھا تو کیا یہ بات صحیح تسلیم کی جائے گی ؟ ہرگز نہیں کیونکہ وہ رحم کے موقع پر رحم کرتا ہے اور سزا کی ضرورت کے وقت سزا دیتا ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر وہ شدید العقاب ہے تو رحیم نہیں ہو سکتا اور اگر رحیم ہے تو شدید العقاب نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ وہ رحم کے موقع پر رقم کرتا ہے اور مزا کے موقع پر سزا دنیا ہے اور سزا کے موقع پر یعنی جہاں سنزا سے اس شخص کی اصلاح مد نظر ہو جسے سزادی گئی ہے سزا کا دینا ہرگز رحم کے خلاف نہیں ہوتا بلکہ رحم ہی کی ایک شاخ سمجھا جاتا ہے ۔ اس جگہ ایک اور اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ انسان میں رحم اور غضب الگ الگ موقعوں پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن خدا میں تو تم ایک ہی وقت میں ساری باتیں مانتے ہو تمہارے نزدیک خدا کے حکم سے ایک ہی وقت ایک کے ہاں بیٹا پیدا ہو رہا ہے اور اسی لمحہ میں دوسرے کے ہاں موت واقع ہو رہی ہے۔ ادھر نبی پر وہ برکتیں نازل کرتا ہے اور دوسری طرف اسی وقت کافروں پر لعنت ڈال رہا ہوتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ محدود وجود کے اعمال محدود ہوتے ہیں انسان ایک وقت میں دو باتوں پر غور نہیں کر سکتا لیکن خدا تعالیٰ کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ غیر محدود طاقتیں رکھتا ہے۔ وہ جس طرح ایک ہی وقت میں ساری دنیا کے کاموں کو معلوم کر لیتا ہے اسی طرح ایک ہی وقت میں اس کی صفت رحم اور صفت شدید العقاب کام کر رہی ہوتی ہیں انسان کی طاقتوں پر خدا کی قدرتوں کا قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ وہ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شنی ہے۔