انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 404

انوار العلوم جلد 4 ۴۰ هستی باری تعالی ہے کہ اس سے زیادہ کیا آسان ہو سکتا ہے کہ اکثر نیکیاں خدا تعالیٰ نے وہی رکھی ہیں جن میں انسان کا اپنا فائدہ ہے ۔ ان کو نہ کرنا تو ایسا ہی ہے جیسا کسی کو کہا جائے کہ تم اپنے گھر کو لیپ پوت چھوڑنا مگر وہ ایسا نہ کرے اور کہے کہ اتنا سخت کام ہے اور مزدوری دیتے نہیں تو میں کیوں کروں ۔ دیکھو خدا تعالیٰ کہتا ہے چوری نہ کرو اب اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کا کسے نقصان ہے خدا تعالی کو یا خود اسے ؟ یا خدا تعالیٰ کہتا ہے جھوٹ نہ بولو اب اگر کوئی جھوٹ بولتا ہے تو خدا تعالیٰ کا کیا نقصان خود اس کا اعتبار نہیں رہتا ۔ اسی طرح جس قدر سوالات خدا نے اس امتحان میں پاس ہونے کے لئے دیئے ہیں وہ انسان کے ہی فائدہ کے لئے ہیں اور چند ایک ایسے بھی ہیں جو بظاہر انسان کے دنیوی یا اخلاقی فائدہ کے نظر نہیں آتے جیسے نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ کے احکام ہیں مگر در حقیقت ان میں بھی انسان کا ہی فائدہ مد نظر ہے۔ جیسا کہ نماز کے متعلق آتا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ - ( العنكبوت : ۴۶) کہ نماز برائیوں اور بدیوں سے روکتی ہے ۔ سو اگر سوچا جائے تو خدا تعالیٰ نے امتحان اس طرح کا لیا ہے کہ اپنے دروازہ پر روغن مل دینا ، چھت پر مٹی ڈال دینا ، اپنے کپڑے دھونا ، کھانا دیکھ کر کھانا تاکہ اس میں مٹی وغیرہ نہ ہو، سردی کے وقت آگ جلانا تاکہ تمہاری صحت خراب نہ ہو اور پھر پوچھے کہ کیا تم نے یہ کام کر لئے ہیں ؟ اور جنہوں نے کئے ہوں انہیں جنت میں داخل کر دے اس سے زیادہ آسان اور کیا امتحان ہو سکتا ہے ؟ اس سے آسان تو پھر یہی ہو سکتا ہے کہ کہہ دیا جائے جو مرضی ہو کرو تمہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ کیا خدا کی بعض صفات بعض سے افضل ہیں ؟ صفات الہیہ کے متعلق یہ بھی ایک سوال ہو سکتا ہے کہ کیا خدا کی بعض ہو صفات بعض سے افضل ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ افضل نہیں ہوتیں بلکہ ہر ایک کے الگ الگ دائرے ہوتے ہیں اور وہ ایک انتظام کے ماتحت ہوتی ہیں۔ ہاں کبھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ بعض بعض سے وسیع ہوتی ہیں۔ یعنی بعض کا ظہور زیادہ وسیع ہوتا ہے بعض کی نسبت جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَنی کہ میری رحمت ہر ایک چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ یعنی مخلوق پر صفات غضبیہ کی نسبت صفات رحمت کا ظور زیادہ ہوتا ہے۔ پس ہم صفات کے لئے لفظ وسعت کا استعمال کرتے ہیں فضیلت کا نہیں کیونکہ ایک صفت کو دوسری سے افضل کہنا بے ادبی ہے۔ الأعراف: ۱۵۷ ÷