انوارالعلوم (جلد 6) — Page 403
لوگ تو کہتے ہیں اللہ میاں بڑا دانا ہے۔مگر اس نے یہ کیا کیا ہوا ہے۔انہیں خیالات میں وہ ایک آم کے درخت کے نیچے سوگیا۔اوپر سے ایک آم اس پر گِرا اور وہ اُٹھ کر کہنے لگا۔اللہ میاں مجھے تیری اس حکمت کی سمجھ آگئی اگر مجھ پر کدو گرتا تو میرا کام ہی تمام ہوجاتا۔تو نے جو کچھ کیا ہے ٹھیک کیا ہے میری گستاخی تھی جو مَیں نے اعتراض کیا۔غرض خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر اعتراض کرنے والے اول درجہ کے جاہل ہوتے ہیں اور نادانی سے اس ذات پر اعتراض کرتے ہیں جو ان کو پیدا کرنے والی ہے اور جس کے مقابلہ میں وہ مکھی جتنی بھی حیثیت نہیں رکھتے۔خدا کی ہادی صفت پر اعتراض اور اس کا جواب پھر کہا جاتا ہے کہ خدا کی ہادی صفت نے کیا کیا۔زیادہ دنیا تو گمراہی کی طرف جارہی ہے۔اگر اس اعتراض کا یہ مطلب ہے کہ خدا کسی کو بُرے کام کیوں کرنے دیتا ہے تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ خدا لوگوں پر جبر کیوں نہیں کرتا؟ گویا جب کوئی شرابپینےجائے تو اسے روک دے لیکن اگر یہ حالت ہو تو پھر کوئی انعام کا کسی طرح مستحق ہو۔بات یہ ہے کہ اس قسم کے معترض اعتراض کرتےہوئے بھول جاتے ہیں کہ دنیا کو خدا نے کیوں پیدا کیا ہے۔اس بات کو بھلا کر اعتراض کرتے ہیں یا پاگلانہ طور پر اعتراض کرتے ہیں۔دُنیا کو خدا تعالیٰ نے اس لئے پیدا کیا ہے کہ انسانوں کو انعام اور ترقیاں دے لیکن اگر جبر ہوتا تو انعام دینا غلط ہوتا۔پس خدا تعالیٰ نے انعام دینے کےلئے انسان کو نیکی اوربدی کا علم دیکر قدرت دے دی ہے اور بتا دیا کہ یہ کام کروگے تو انعام ملےاور یہ نہ کروگے تو سزا اور یہ صاف بات ہے کلہ انعام پانیوالے تھوڑے ہی ہوتے ہیں سارے نہیں ہوا کرتے۔دیکھو یہ جو یونیورسٹیاں بنی ہوئی ہیں ان میں تیس پنتیس فیصدی طلباء پاس ہوتے ہیں اگر کوئی کہے کہ ان کا کیا فائدہ ہے؟ تو اس کے جاہل ہونے میں کیا شک ہوسکتا ہے۔مگر ان یونیوسٹیوں کے کام کا نتیجہ تو بہت ادنی ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے جس مقصد کے لئے انسان کو پیدا کیا ہے وہ بہت شاندار ہے اس لئے اس کا امتحان بھی بہت سخت ہے۔خدا نے امتحان آسان رکھا ہے اگر کہا جائے کہ خدا تعالیٰ کا یہ منشاء تھا کہ انعام دے تو امتحان آسان رکھنا چاہئے تھا۔اس کا یہ جواب