انوارالعلوم (جلد 6) — Page 402
انوار العلوم جلد 4 ۴۰۲ ہستی باری تعالٰی جاری کر کے دیکھ لو دنیا کیا بن جاتی ہے۔ اس قانون کے ماتحت بچہ کو نو ماہ کے بعد پیدا نہ ہونا چاہئے بلکہ فوراً پیدا ہو جانا چاہئے ۔ سوچو تو سی اس کا کیا نتیجہ نکلے گا سردی کا موسم ہو آدھی رات کا وقت ہو ایک غریب آدمی کی بے خبری میں یکدم بچہ پیدا ہو جائے اس وقت وہ کہاں سے اس کے لئے کپڑا مہیا کر سکے گا پھر اگر مضبوط آدمی ہوا اور اس نے پھر ایسا ہی فعل کیا جس سے بچہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس وقت ایک اور بچہ پیدا ہو جائے گا اور اگر تیسری دفعہ پھر وہی فعل اس سے ہوا تو تیسرا بچہ پیدا ہو جائے گا اس طرح ایک ایک رات میں بعض لوگوں کے کئی کئی بچے پیدا ہونے ممکن ہوں گے اور صبح ہوتے ہوئے ایک بڑے کہنے کی پرورش کا بوجھ سر پر پڑجائیگا خود ہی اندازہ کر لو کہ اس قانون کے ماتحت ایک سال میں یہ تعداد کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسی حالت ہوتی تو عورت مرد آپس کے تعلقات سے کانوں کو ہاتھ لگاتے کہ ہم اس کے قریب نہ جائیں گے۔ پھر ایک بچہ پیدا ہونے پر عورت کو اس قدر تکلیف ہوتی ہے کہ اس کا بُرا حال ہو جاتا ہے اور ولایت میں تو عورت میں رحم ہی نکلوا دیتی ہیں تاکہ بچہ پیدا ہونے کی تکلیف نہ برداشت کرنی پڑے لیکن اگر ایک ہی وقت میں پے در پے بچے پیدا ہو سکتے تو نہ معلوم وہ کیا کرتیں شادی کا ہی نام نہ لیتیں یا پھر ایک ایک مرد کو کئی کئی سو عور تیں کرنے کی اجازت ہوتی ۔ اگر خدا آہستہ نہ بڑھاتا پھر آہستہ پیدا کرنے والا اعتراض آہستہ بڑھانے پر بھی پڑتا ہے کہ آہستہ آہستہ کیوں خدا بڑھاتا ہے۔ اس طرح بھی نہ ہو بلکہ ادھر بچہ پیدا ہوا ادھر یکدم بڑا ہو گیا۔ مگر اس طرح ایک اور مصیبت شروع ہو جائیگی بچہ کے پیدا ہونے پر جوں توں کر کے ماں نے جلدی سے اس کے اندازہ کا گرتا سیا کہ سڑی چے کے پیدا ہونے پر جوں توں کر کے ماں نے جلدی - سے مر نہ جائے لیکن جب وہ پہنانے لگی تو کیا دیکھتی ہے کہ وہ پانچ چھ سال کا بن گیا ہے پھر وہ سات آٹھ سال کے بچہ کے اندازہ کا کپڑا سی کر لائی مگر دیکھا کہ وہ تو داڑھی والا مرد بنا بیٹھا ہے ۔ غرض فوراً پیدائش اور بڑھنے کی وجہ سے دنیا میں ایک ایسی آفت آجائے کہ یہی لوگ جو اعتراض کرتے ہیں کانوں کو کانوں کو ہاتھ لگائیں اور کہ اُٹھیں کہ ہم نے خدا کی قدرت دیکھ لی اور ہم اعتراضو سے باز آئے ۔ ب ایک لطیفہ مشہور ہے کہ کوئی شخص باغ میں گیا اور جا کر دیکھا کہ زمین پر پھیلی ہوئی بیلوں کو تو بڑے بڑے پھل لگے ہوئے ہیں اور بڑے بڑے اونچے درختوں کو چھوٹے چھوٹے ۔ اس نے کہا