انوارالعلوم (جلد 6) — Page 388
انوار العلوم جلد 4 ۳۸۸ هستی باری تعالی جنم میں بکری نے شیر کو کھایا ہو گا ۔ یا کوئی اور قصور کیا ہو گا ۔ گویا یورپ والوں اور ہندوؤں نے یہ مان لیا ہے کہ مخلوق میں ظلم نظر آرہا ہے ۔ آگے یورپ والوں نے کہ دیا کہ خدا مجبور تھا جو کچھ اس سے بن سکا وہ اس نے بنا دیا اور یہاں کے لوگوں نے کہہ دیا خدا کیا کرتا بندوں نے خود جو کچھ کیا اس کا بدلہ پارہے ہیں ۔ حقیقی جواب اس کا جواب اول تو یہ ہے کہ دنیا میں دیکھو کوئی رحم بھی نظر آتا ہے یا سب ظلم ہی ظلم ہے ؟ اگر ظلم ہے ؟ اگر رحم نظر آتا ہے تو معلوم ہوا کہ خدا رحیم ہے باتی اگر ایسی چیزیں ہیں جو رحم کے نیچے نہیں آتیں تو ان کے متعلق یہ سمجھنا چاہئے کہ ان کا ہمیں علم نہیں کہ رحم کے نیچے کسی طرح آتی ہیں ؟ کیونکہ دوسری صفات سے خدا کا رحیم ہونا ثابت ہے اور جن سے ثابت نہیں ان سے معلوم کرنا باقی ہے اور عدم علم سے عدم شئے لازم نہیں آتی۔ یہ ہے جو خدا تعالیٰ نے قرآن میں دیا ہے وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا دوسرا جواب طَيْرِ يَطِيرُ بِجَنَا حَيْهِ إِلَّا أُمَمٌ أَمْثَالُكُمْ مَا فَرَّطْنَا فِي الكتب مِنْ شَى ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ يُحْشَرُونَ - (الانعام: (۳) خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم ہی تو مخلوق نہیں ہو اور بھی مخلوق ہے جس طرح تمہارے پیدا کرنے میں حکمت ہے اسی طرح ان کے پیدا کرنے میں بھی حکمت ہے اگر تمہارے لئے ان کو مسخر کر دیا گیا ہے تو ان کے مسخر ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا کوئی مستقل وجود نہیں بلکہ ان کے وجود سے بھی بعض خدا کی صفات کا ظہور ہو رہا ہے ۔ تیسرا جواب ۔ یہ ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ بعض چیزیں مفید نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ نہیں ان کے فائدے معلوم نہیں ہوتے اس لئے ان کو نقصان رساں سمجھتے ہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ہر ایک چیز تمہارے فائدہ کے لئے پیدا کی ہے اس لئے یہ کہنا درست نہیں کہ بعض چیزیں صرف ضرر رساں ہیں دنیا کی کون سی چیز ہے جس کا صرف نفع ہی ہوتا ہے مگر باوجود اس کے بعض چیزوں کو اچھا کہا جاتا ہے یہ ضرر رساں جانور بھی اپنے اندر فائدے رکھتے ہیں۔ سانپ کا زہر بیسیوں بیماریوں میں مفید ہے شیر کی چربی بیسیوں بیماریوں میں مفید ہے اسی طرح اور بہت سے موذی جانور ہیں جن کے بہت سے فوائد دریافت ہوئے ہیں اور ابھی اکثر حصہ پوشیدہ ہے ابھی علوم چونکہ ابتدائی حالت میں ہیں اس لئے ان کی بناء پر یہ کہنا کہ فلاں چیز مضر ہے درست نہیں بہت سی چیزیں پہلے بے فائدہ بھی جاتی تھیں اب