انوارالعلوم (جلد 6) — Page 386
انوار العلوم جلد 4 ۳۸۶ هستی باری تعالی صفت مالکیت سے مادہ کے مخلوق ہونے کا ثبوت اب بھی اگر کس کی تسلی نہ ہو تو پھر کسی اور صفت کو مستقل قرار دیکر پیمائش شروع کی جاسکتی ہے۔ میں اس غرض کے لئے خدا تعالیٰ کی صفت مالکیت کو لیتا ہوں ۔ اس صفت کو ہم بھی مانتے ہیں اور فریق مخالف بھی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ملکیت کس طرح پیدا ہوتی ہے ؟ ملکیت یا تو اس طرح پیدا ہوتی ہے کہ کوئی شخص ورثہ سے کوئی چیز حاصل کرتا ہے یا کوئی اسے دیتا ہے یا وہ خریدتا ہے یا خود بناتا ہے یہی چار ذریعے ملکیت کے ہیں یعنی ورثہ ، تحفہ ، خرید اور خلق یا صنعت - خدا تعالیٰ جو مالک کہلاتا ہے تو کسی لحاظ سے آیا اسے مادہ درخہ میں ملا ہے یا اسے کسی نے تحفہ دیا ہے یا اس نے خریدا ہے یا بنایا ہے آریہ لوگ بھی اس امر کو تسلیم نہیں کرتے کہ پہلے تین ذریعوں سے خدا کو مادہ سے خدا کو مادہ پر ملکیت حاصل ہوتی ہے اس لئے اگر وہ مالک ہے تو ماننا پڑے گا کہ اسے ملکیت پیدا کرنے کے سبب سے حاصل ہوئی ہے اور اگر یہ ثابت نہیں ہے تو خدا تعالیٰ مادہ کا مالک نہیں ہے بلکہ نعوذ باللہ غاصب ہے۔ خدا تعالیٰ کی دیگر صفات سے مادہ کے مخلوق ہونے کا ثبوت اسی طرح اللہ تعالیٰ کی دوسری صفات لے کر جب اس مسئلہ کو حل کیا جائے تو آخری نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مادہ مخلوق ہے مثلاً خدا قادر ہے آریہ لوگ بھی خدا کو قادر مانتے ہیں اور ہم بھی لیکن اگر خدا مادہ کو پیدا نہیں کر سکتا تو اس کی قدرت کامل نہ ہوئی وہ کہتے ہیں کہ روح و مادہ کا جوڑہ نا خدا کی قدرت ہے مگر ان کا بنانا اس سے بھی اعلیٰ قدرت ہے اس لئے یہی درست ہے کہ خدا نے مادہ پیدا کیا پھر وہ کہتے ہیں کہ خدا مہربان اور رحیم ہے ہم بھی یہ مانتے ہیں مگر ہم پوچھتے ہیں اگر خدا روح اور مادہ کا خالق نہیں تو اس کا کیا حق ہے کہ روح اور مادے کو کسی سبب سے سزا دے جب وہ اپنے وجود میں اس کے محتاج ہی نہیں تو خدا تعالیٰ کا یہ بھی حق نہیں کہ ان کے لئے کوئی قانون بنائے اور جب اس کا یہ حق نہیں کہ ان کے لئے کوئی۔ قانون بنائے تو اسے یہ بھی حق نہیں کہ اس قانون کے توڑنے پر انہیں کوئی سزا دے۔ جوڑنے جاڑے سے ہر گز سزا دینے کا کوئی حق حاصل نہیں ہو جاتا کیونکہ سزا کا حق تو بادشاہت سے حاصل ہوتا ہے اور وہ اسے حاصل نہیں کیونکہ نہ اس نے روح و مادہ کو پیدا کیا نہ انہوں نے اپنا اختیار اس کے ہاتھ میں دیا۔ غرض روح و مادہ کو اگر مخلوق نہ مانا جائے تو خدا تعالیٰ رحیم نہیں بلکہ ظالم قرار پاتا ہے لیکن چونکہ آریہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ خدا رحیم ہے اس لئے مانا پڑتا ہے کہ خدا تعالی مادہ