انوارالعلوم (جلد 6) — Page 377
انوار العلوم جلد 1 هستی باری تعالی جو یہ لوگ کرتے ہیں بلکہ یہ ہیں کہ اس نے سارے معبودان باطلہ کو مٹاکران کی جگہ ایک معبود قرار دیدیا ہے یہاں جَعَلَ بمعنی قرار دینا ہے ورنہ اگر لفظی معنی ہی لئے جائیں گے تو یہ ہو گا کہ ان کو کوٹ کوٹ کر ایک بنالیا ہے لیکن یہ معنے نہ وہ لیتے ہیں اور نہ ہم اس لئے جَعَل کے یہی معنے ہونگے کہ بہت سے معبود تھے ان سب کو مٹا کر اس نے ایک قرار دے دیا ۔ اب رہی تیسری آیت نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ - (ق : ۱۷ ) اس کے جو معنی ہمہ اوست والے کرتے ہیں وہ بنتے ہی نہیں ۔ وہ کہتے ہیں مقید سے مطلق زیادہ قریب ہوتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کس کے زیادہ قریب ہوتا ہے مفید کی اپنی ذات کی نسبت مطلق اس کے زیادہ قریب کیونکہ ہو سکتا ہے پس جب غیر کوئی ہے ہی نہیں تو مطلقی و مفید کی بحث یہاں پیدا ہوتی ہی نہیں مقید و مطلق تو غیر کو فرض کر کے بنتے ہیں جب چیز ہی ایک ہے تو مفید کو قید کس نے کیا ؟ یہ ساری آیت یوں ہے وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ - (3 :(4) اور یقیناً ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہمیں پتہ ہے کہ اس کے دل میں شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ میں کیا کروں اور کیا نہ کروں ۔ مگر اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ہم نے اسے پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا بلکہ ہم حبل الورید سے بھی اس کے زیادہ قریب ہیں ۔ حبل الورید کے معنی اس رگ کے ہیں جو دل سے دماغ کی طرف خون پہنچاتی ہے اور طب سے پتہ لگتا ہے کہ دماغ کبھی کام نہیں کر سکتا جب تک اسے خون نہ پہنچے تو گویا دماغ کا کام بھی رگ جان کی امداد پر منحصر ہے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ زندگی کے ساتھ خیالات اور خیالات کے ساتھ وساوس لگے ہوئے ہیں اور بیشک یہ انسان کے راستہ میں روگ بنتے ہیں مگر رگ جان سے بھی ہم انسان کے زیادہ قریب ہیں کہ رگ جان کئے تو مرتے مرتے انسان کو پھر بھی چند سیکنڈ لگیں گے لیکن ہماری مدد بند ہو تو انسان کی تباہی پر کوئی وقت بھی نہ لگے۔ پس کیوں انسان ایسے وساوس اور شبہات وه با وجود کے وقتوں میں ہماری طرف توجہ نہیں کرتا کہ ہم اس کے وسوسوں کو اور شہوں کو دور کریں ۔ کیا وہ اس کے کہ اس کا ذرہ ذرہ ہمارے قبضہ میں ہے یہ خیال کرتا ہے کہ اس کے وساوس کا علاج ہمارے پاس نہیں ؟ حالانکہ وساوس و خیالات زندگی کا ایک شعبہ ہیں اور زندگی خود ہمارے ذریعہ سے ہے نہیں اس کی مشکلات کو حل کرنا بھی ہمارے ہی اختیار میں ہے ۔