انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 356

الدار العلوم جلد 4 ۳۵۶ هستی باری تعالی کہ کسی چیز کی لمبائی کیا ہے چوڑائی کیا ہے اور اونچائی کیا ہے رنگ کی کیفیت اندھا سمجھ نہیں سکتا اس بیان سے اندھا کچھ نہ کچھ اندازہ کرلے گا ۔ اسی طرح اور کئی چیزیں ہیں کہ جن کی صفات بیان کرنے سے ان کا پتہ لگایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شناخت بھی اس طریقی سے ہوتی ہے۔ وہ صفات ہی کے ذریعہ سے انسان کے سامنے آتا ہے اور صفات ہی سکتے ذریعہ سے انسان اسے پہچان سکتا ہے۔ کیا خدا ایک ہی ہے یا ایک سے زیادہ خدا ہیں ؟ جب سے تاریخ عالم کا پتہ چلتا ہے یہ سوال بنی نوع انسان کے سامنے رہا ہے کہ کیا خدا ایک ہی ہے یا ایک سے زیادہ ہستیاں ہماری اطاعت و ہا ہے کہ کیا خدا ہی ہے یا سے زیادہ ہماری و فرمانبرداری کی مستحق ہیں ؟ اس سوال کا جواب اسلام نے نہایت واضح اور زور دار الفاظ میں نہیں یہ دیا ہے کہ خدا صرف ایک ایک ہے اور کوئی ہستی اس کی شریک نہیں، بلکہ عقلاً بھی ایسی ہی ایک ہے اور اس کی نہیں بلکہ عقل بھی ہی ہو سکتی ہے دو نہیں ہو سکتیں۔ یہ بالکل ناممکن ہے اور ہماری عقل ہی نہیں سمجھ سکتی کہ دو محیط کل ہستیاں ہوں دو کا لفظ ہی حد بندی پر دلالت کرتا ہے اور حد بندی کے ساتھ اس غیر محدود قوت کا خاتمہ ہو جاتا ہے جو خدا کے خیال کے ساتھ لازم و ملزوم ہے ۔ پس خدا ایک ہی ہو سکتا ہے دو خدا نہیں ہو سکتے ۔ شرک کیا چیز ہے ؟ جب جبکہ اللہ تعالیٰ غیر مرئی ہے تو اس کا شریک بنانے یا سمجھنے سے کیا مراد ہے ؟ یہ بھی ایک الیسا سوال ہے جو ہمیشہ سے لوگوں کو حیرت و پریشانی میں ڈالتا رہا ہے وہ لوگ جو بڑے زور سے ایک خدا کے قائل ہوتے ہیں بعض دوسرے لوگ ان کی نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ مشرک ہیں اور اگر ہم ان کی حالت پر غور کریں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر بعض ایسی باتیں ضرور پائی جاتی ہیں جن کو دل اندر سے برا سمجھتا ہے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ شرک کا مسئلہ ایسا سیدھا سادہ نہیں ہے جیسا کہ سمجھا جاتا ہے بلکہ نہایت باریک مسئلہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر قو میں جو بظاہر شرک کی مخالف ہیں عملاً شرک میں مبتلاء پائی جاتی ہیں اور اس کا سبب یہی ہے کہ وہ شرک کی حقیقت سمجھنے سے قاصر رہی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ شرک کی کوئی ایک تعریف نہیں ہے۔ بلکہ مختلف نقطہ نگاہ سے اس مرض کی حقیقت کو سمجھا جاسکتا اسے ایک تعریف کے اندر لانے کی کوشش ہوتی رہے گی اس وقت تک یہ مسئلہ معتقد و لا یمان رہے گا۔ میرے نزدیک اسے سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل تقسیم بہت مفید ہو سکتی ہے ۔ ہے جب تک -