انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 354

بھی پوشیدہ ہےصرف آثار ظاہر ہیں۔سارے فلاسفر اس بات کی تعیین کرتے کرتے مرگئے کہ میں کیا چیز ہے۔؟مگر وہ کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکے۔پس جب انسان اپنے آپ کا پتہ نہیں لگا سکتے تو خدا کا پتہ کیا لگائیں گے۔حدیث میں آتا ہے کَلَّکُمْ فِیْ ذاتِ اللہِ حُمْقیٰ۔کہ خدا کی ذات کے متعلق تم سارے بالکل حیران پریشان ہو۔اس کی ذات تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی۔سب حقیقتیں مخفی ہوتی ہیں انسان کے اس شک کو دور کرنے کے لئے کہ اگر مَیں خدا کو نہیں سمجھ سکتا اور اس کی حقیقت معلوم نہیں کرسکتا تو اس کے ماننے کا کیا فائدہ ؟ خدا تعالیٰ نے ساری ہی حقیقتوں کو مخفی کردیا ہے۔چھوٹی سے چھوٹی چیز کی حقیقت کو بھی ہم نہیں معلوم کرسکتے ایک میز کو لے لو ہم اس کی چوڑائی لمبائی اور رنگ دیکھتے ہیں مگر کیا لمبائی چوڑائی اوررنگ کو میز کہتےہیں؟ ہم ان چیزوں کو دیکھ کر ایک عرفان ایک وقوف اپنےذہن میں پاتے ہیں اور وہ میز ہوتی ہے۔یامثلاًکوئی شخص دوسرے کو اپنا بیٹا کہتا ہے تو اس کا کیا مطلب ہوتا ہے؟کیا اس لئے کہ وہ اتنا اونچا اور اس رنگ کا ہے۔نہیں بلکہ اس کیفیت کی وجہ سے جو اس کےذہن میں پیدا ہوتی ہے،غرض اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو دُور کرنےکے لئے اگر خدا کی ذات مخفی ہی رہتی ہے تو کیا پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ ہے اور کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے۔سب چیزوں کی حقیقت کو مخفی کردیا ہے۔خدا کی ہستی کا پتہ کس طرح لگتا ہے ؟ اب سوال ہوگا کہ پھر اس وارء الوریٰ ہستی کا پتہ کس طرح لگے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ مَیں نے کل بتایا تھا اس کا پتہ الہام سے لگتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا تُدْرِكُہُ الْاَبْصَارُ۰ۡوَہُوَيُدْرِكُ الْاَبْصَارَ(الانعام:۱۰۴)تم خدا تک نہیں پہنچ سکتے مگر اس پر گھبرائو نہیں ہم خود تمہارے پاس آئیں گے۔ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے کہ وہ کبھی گھر سے باہر نہیں نکلتے تھے ایک دفعہ ان کے پاس بادشاہ کا پروانہ آیا کہ جلدی آکر ہمیں فلاں جگہ پر ملو اس پر ان کے دوست گھبرائے کہ کیا سبب ہے کہ بادشاہ نے اس طرح انہیں بلوایا ہے اور انہوں نے چاہا کہ وہ ابھی ٹھہریں پہلے وہ پتہ لے لیں کہ کیا بات ہے۔مگر وہ چل پڑے۔شام کے قریب سخت بارش آئی اور اندھیرا ہوگیا اور وہ ایک جھونپڑی میںجو جنگل میں تھی پناہ لینے پر مجبور ہوئے وہاں جاکر انہوں نےصاحب مکان سے رات بسر کرنے کی اجازت طلب کی۔جو