انوارالعلوم (جلد 6) — Page 353
انوار العلوم جلد 4 ۳۵۳ هستی باری تعالی انسان کا دماغ اس لئے پیدا کیا ہے کہ اس کی صفات اخذ کرے ۔ مگر تم منہ پر مارتے ہو میں سے خطرہ ہوتا ہے کہ دماغ کو جو اس کے بالکل قریب ہے صدمہ پہنچ جائے اور انسان کی عقل کو نقصان پہنچ جائے جس سے وہ اپنی پیدائش کی غرض کو پورا کرنے سے ہی محروم ہو جائے ۔ اس حدیث کے یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں عَلى صُورَتِهِ سے مراد عَلَى صُورَةِ الْإِنْسَانِ ہو۔ یعنی آدم کو اس کے مناسب حال شکل پر پیدا کیا ۔ اس صورت میں اس حدیث کا یہ مطلب ہو گا کہ چونکہ وہ وہ زور سے سے مار مار رہا رہا تھا اس لئے تمکن لئے ممکن تھا تھا کہ غلام کا کوئی عضو عضولوٹ ٹوٹ جاتا جاتا۔ ۔ اس پر رسول کریم نے فرمایا خدا نے تو اسکو اس کے مناسب حال شکل دی تھی کیا اب تم اس کو درست کرنے لگے ہو ؟ گویا تعریضاً فرمایا کہ اس طرح مارکہ ایک بے کس آدمی کی شکل بگاڑ دینے کے یہ معنی ہوں گے کہ خدا تعالٰی سے تو اس کی شکل کے بنانے میں غلطی ہو گئی تھی اب تم اس غلطی کی اصلاح کرنے لگے ہو؟ اس صورت میں یہ زجر کا کلام ہے اور اس کے ہرگز یہ معنی نہیں کہ خدا کی کوئی صورت اور شکل ہے جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے ۔ کیا خدا کی حقیقت معلوم ہو سکتی ہے ؟ اب شاید کسی کے دل میں یہ خیال گزرے کہ جب وہ ایسی وراء الور ی ہستی ہے کہ جس کا کوئی پتہ ہی نہیں لگ سکتا تو پھر ہم اسے کسی طرح سمجھ سکتے ہیں اور کیونکہ اس کے وجود کو ذہن میں لا سکتے اور اس کی حقیقت کو سمجھ سکتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خدا کی ذات اور حقیقت کو کوئی نہیں پا سکتا ۔ کیونکہ جس چیز کی حقیقت کو کوئی پا لیتا ہے اس کو بنا بھی لیتا ہے اور ہمارا خدا کی حقیقت کو پالینے کا یہ مطلب ہو گا کہ ہم پالیتا بنا اور مجانا بجا تے ہیں لا کھڑی ہے اس کے متعلق اگر کام علم جو اس کے پرزوں کی ساختی کا بھی اور ان کی ترکیب کا بھی اور اس سامان کا بھی جس سے وہ بنتی ہے اور جس طرح وہ بنتی ہے تو پھر اس کا بنا نا بھی ہمارے لئے بالکل ممکن ہو گا ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ کی حقیقت کو سمجھ لینے اور پالینے کا یہ مطلب ہو گا کہ ہم ایک ویسا ہی خدا بنا بھی سکیں ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کو سمجھنا تو الگ رہا ہم اپنے آپ کو بھی نہیں سمجھ سکتے اور اس بات کو بیچے بھی جانتے ہیں ۔ چنانچہ بچے ایک کھیل کھیلا کرتے ہیں ۔ جس میں ایک دوسرے کو کہتا ہے کہ مجھ کو پکڑو جب دوسرا اس کے کسی عضو کو ہاتھ لگاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ تم نے مجھے تو نہیں پکڑا میرے ہاتھ کو پکڑا ہے یا پاؤں کو پکڑا ہے یا سر کو پکڑا ہے۔ اس کھیل کا بھی درحقیقت یہی مطلب ہے کہ انسان کی حقیقت