انوارالعلوم (جلد 6) — Page 351
انوار العلوم جلد 4 اور صلح کسی طرح سے ہوئی ۔ ۳۵۱ هستی باری تعالی آریہ لوگ گو ہندوؤں میں سے نکلے ہیں لیکن چونکہ انہوں آریوں کا خدا کے متعلق خیال نے اپنے عقائد میں بہت کچھ فرق کر لیا ہے اس لئے ہیں ان کا الگ ذکر کرتا ہوں ۔ ان لوگوں کے عقیدہ میں بھی بہت کچھ کمزوریاں ہیں یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے دنیا کو پیدا نہیں کیا بلکہ دنیا کے ذرات اور ارواح خود بخود ہیں خدا نے صرف جوڑ دیا ہے اور سب صفات اقتداری کے وہ منکر ہیں۔ ان کے نزدیک خدا نہ رازق ہے نہ خالق نہ حفیظ اور جو صورت وہ خدا کی پیش کرتے ہیں اگر اسے تسلیم کر لیا جائے تو ماننا ہیں اگر اسے تسلیم کر لیا پڑتا ہے کہ اگر خدا مر بھی جائے تو بھی دنیا کا کوئی چنداں حرج نہیں ۔ خدا ر ہے یا نہ رہے ہم کہ مر توبھی دنیا کا را ضرور رہیں گے یہ خیال بھی ایسا ہے کہ اسے عقل انسانی تسلیم نہیں کر سکتی ۔ ان سب مذاہب کے مقابلہ میں اسلام کیا کہتا اسلام خدا کے متعلق کیا کہتا ہے ؟ ہے ؟ چونکہ اس سوال پر روشنی ڈالنا میرا منصور ہے اس لئے اس کے متعلق میں تفصیل سے بیان کروں گا سب سے پہلے میں اسلام کی تعلیم خدا کے متعلق خلاصتہ بیان کرتا ہوں۔ اسلام کہتا ہے کہ ایک بالا دستی جامع جمیع صفات موجود ہے وہ قائم بالذات ہے ۔ اپنے وجود میں کامل ہے، دوسروں کا محتاج نہیں ، محدود نہیں ، جس طرح آسمان پر ہے اسی طرح زمین پر ہے، جگہ اسے بند نہیں کر سکتی، جہات اس پر تصرف نہیں رکھتیں، زمانہ اس پر حکومت نہیں کر سکتا ، وہ با وجود دور ہونے کے نزدیک ہے اور باوجود نزدیک ہونے کے دور ہے ، اسے کسی نے نہیں بنایا مگر جو کچھ بھی موجود ہے اس کا بنایا ہوا ہے، وہ سب سے بالا ہے اور سب کچھ اس کے قبضہ و تصرف میں ہے ، اس کی مرضی کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا ، وہ بادشاہ ہے، وہ مالک ہے، وہ ہدایت دینے والا ہے ، حفاظت کرنے والا ہے اور عزت و ذلت اسی کے اختیار میں ہے وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے اور ہر ایک بات کو جانتا ہے ۔ مگر وہ سننے اور دیکھنے اور جاننے کے لئے ہماری طرح آلات کا محتاج نہیں ، جو کچھ دنیا میں نظر آتا ہے سب اسی کی صفات کا ظہور ہے، وہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس نے دنیا کو خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ دنیا اس مقصد کو پورا کرے اس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ خود دنیا کا فائدہ اور اس کی ترقی ہے ۔