انوارالعلوم (جلد 6) — Page 350
انوار العلوم جلد 4 ۳۵۰ ہستی باری تعالیٰ اعصاب کمزور ہو جاتے ہیں تو اگر یہ درست ہے کہ اندھیرے کا پیدا کرنے والا شیطان ہے تو یہ بھی ماننا پڑیگا کہ خدا نے دنیا کو نامکمل پیدا کیا تھا شیطان کی مہربانی سے وہ مکمل ہوئی ۔ ہندوؤں کا خدا کے متعلق خیال کے متعلق خیال دنیا کا تیسرا با مذہب ہندو ہے۔ ان کے عقائد میں بھی خدا تعالیٰ کے متعلق بعض ایسی تعلیمیں ہیں جو خدا تعالیٰ کو ناقص ثابت کرتی ہیں یا یہ کہ وہ تعلیمیں عقل کے خلاف ہیں۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ خدا دنیا میں اوتار لیتا ہے اور مخلوق کا جنم لیتا ہے اور یہ عقیدہ ان میں ایسی بری صورت میں پیش کیا جاتا ہے کہ یہاں تک بھی کہہ دیتے ہیں کہ خدا نے جانوروں میں سے سور اور مگر مچھ کا بھی جنم لیا ہے۔ اگر یہ لوگ غور کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ خدا کے جنم لینے کے معنی ہیں کہ وہ محدود ہے پھر مگر مجھے اور سٹور کی شکل میں اس کا ظاہر ہونا تو اور بھی حقارت پیدا کرنے والا ہے اور اس عقیدہ سے بجائے خدا تعالیٰ کی عظمت ثابت ہونے کے اس کی ہتک ہوتی ہے ۔ اسی طرح ہندوؤں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا اور بہت سے دیوتا ہیں جنکو کارخانہ عالم کے چلانے میں بہت کچھ دخل حاصل ہے ۔ چنانچہ تین تو بڑے بڑے مظاہر تسلیم کئے جاتے ہیں جن میں سے ایک تو پیدا کرنے والا ہے جسے برہما کہتے ہیں اور ایک رزق دینے والا جسے شو کہتے ہیں اور ایک مارنے والا جسے وشنو کہتے ہیں ۔ اس عقیدہ کی وجہ سے ان میں سے اکثر لوگ وشنو اور شو کی تو پوجا کرتے ہیں مگر ہر ہما کی کوئی پو جا نہیں کرتا کیونکہ خیال کرتے ہیں کہ اس نے تو جو کچھ کرنا تھا کر چکا اب آئندہ تو رزق دینے والے اور مارنے والے سے ہی کام پڑنا ہے اس لئے انہی کی پوجا کرنی چاہئے۔ اس کے متعلق ایک لطیفہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کوئی راجہ تھا اس کے ہاں لڑکا نہ ہوتا تھا۔ وہ برہما کی پرستش کرتا رہا جس کے نتیجہ میں لڑکا پیدا ہو گیا۔ پھر اس نے اس کو چھوڑ دیا کہ اب اس کی کیا ضرورت ہے۔ اب مارنے والے کی پرستش کرنی چاہئے۔ تاکہ بیٹا زندہ رہے۔ اس نے اسی طرح کیا ، لیکن جب وہ لڑکا جوان ہوا تو اس نے کہا جس نے مجھ پر احسان کیا ہے کہ مجھے پیدا کیا اس کی پرستش کرنی چاہئے اور وہ برہما کی پرستش میں لگ گیا اس پر باپ اس سے ناراض ہو گیا اور اس کا غصہ بڑھتے بڑھتے اس قدر تیز ہو گیا کہ اس نے مارنے والے پر میشور سے کہا کہ میرے لڑکے کو مار دے چنانچہ وشنو نے اس لڑکے کو مار دیا مگر بر بہانے کہا اس لڑکے نے میری خاطر جان دی ہے اس لئے اسے پھر پیدا کر دینا چاہئے ۔ اس نے اسے پھر پیدا کر دیا اور اسی طرح یہ جنگ جاری رہی ۔ اب مجھے یہ معلوم نہیں کہ اس جنگ کا خاتمہ کس طرح ہوا