انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 349 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 349

مسیحیوں کا خدا تعالیٰ کے متعلق جو عقیدہ ہے اس میں یہ بھی نقص ہے کہ وہ ایک طرف تو کہتے ہیں کہ مسیح خدا کے بیٹے تھے اور دوسری طرف یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ موت کا شکار ہوئے اوربعض کے نزدیک وہ لوگوں کےگناہوں کے سبب سےتین دن تک جہنّم میں بھی رہے اور سزا پاتے رہے گو یا خدا نعوذ باللہ جہنّم کی سزا تین دن تک بھگتتا رہا اور یہ عقیدہ ایسا ہےکہ اس کے نقص خود ہی ظاہر ہے۔اس پر کچھ زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔زرتشتیوں کا خدا کے متعلق خیال مسیحیوں کے بعد میں زرتشتیوں کے عقائد کو لیتا ہوں۔ان لوگوں کا خدا تعالیٰ کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ ا س سے صرف نُور آتا ہے تکلیف اور دُکھ خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں آسکتا اور اس لئے وہ خدا کے مقابلہ میں ایک اور طاقت بھی مانتے ہیں جس سے ظُلمت اورگناہ اوردُکھ پیدا ہوتا ہے اور دُنیا میں جس قدر تغیرات ہوتےہیں ان کے نزدیک وہ سب انہی دو بالا ہستیوں کی جنگوں کے تنیجہ میں ہوتے ہیں۔کبھی ایک غالب آجاتا ہےکبھی دوسرا۔لیکن آخری زمانہ کی نسبت انکا خیال ہے کہ اس میں نیکی کی طاقت بدی کی طاقت پر غالب آجکائے گی اور شیطان جسے وہ اہرمن کہتے ہیں اس کا سر کُچلا جائے گا۔اس عقیدہ پر اعتراض اس عقیدہ پر بھی بہت سے اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔مثلاً یہ کہ اس طرح شیطان خدا کی ذات میں شریک ہوا اور بجائے ایک خدا کے دو خدا ہوئے جس عقیدہ کو زرتشتی خود بھی ناپسند کرتے ہیں۔اس پر ان کے بعض محقق کہتے ہیں کہ اصل میں خدا ایک اوربھی بالا ہستی ہے اس نے دو طاقتیں ایک نیکی کی اور دوسری بدی کی پیدا کی ہیں مگر اس عقیدہ پر اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اگر یہ بات ہے تو پھر ظلمت خدا ہی کی طرف منسوب ہوئی۔کیونکہ اگر خدا نے شیطان کو پیدا کرکے پھر اس سے ظلمتیں پیدا کرائیں تو گویا خدا نے خود ہی ظلمتیں پیدا کیں۔دوسرا نقص اس عقیدہ میں یہ ہے کہ جن چیزوں کو نقصان رساں سمجھ کر شیطان کی مخلوق قرار دیاجاتا ہےان کے بھی فوائد معلوم ہورہے ہیں اور وہ بھی مفید ثابت ہورہی ہیں۔اندھیرے کو ہی لے لو۔اب اگر اندھیرا نہ ہوتا تو صحت افزانیند نہ ہوتی۔کیونکہ طب سے ثابت ہوتا ہے کہ اندھیرے کی نیند روشنی کی نیند سےاعلیٰ ہوتی ہے اور زیادہ مفید ہوتی ہے۔کئی ترکاریاں اورسبزیاں اندھیرے میں نشو و نما پاتی ہیں۔ہر وقت کی روشنی سے آنکھوں کو بھی نقصان پہنچتا ہے