انوارالعلوم (جلد 6) — Page 348
انوار العلوم جلد 4 ٣٨ هستی باری تعالی اور ایک نوکر کو بلا کر دریافت کرنے لگا کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ اس نے کہا تیرا بھائی آگیا ہے اور تیرے باپ نے پلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا ہے۔ اس لئے کہ اسے بھلا چنگا پایا ۔ وہ غصے ہوا اور اندر جانا نہ چاہا ۔ مگر اس کا باپ باہر جا کے اسے منانے لگا ۔ اس نے اپنے باپ سے جواب میں کہا کہ دیکھ اتنے برس سے میں تیری خدمت کرتا ہوں اور کبھی تیری حکم عدولی نہیں کی۔ مگر مجھے تو نے کبھی ایک بکری کا بچہ بھی نہ دیا۔ کہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوشی مناتا ۔ لیکن جب تیرا یہ بیٹا آیا ۔ جس نے تیرا مال متاع نسبیوں میں اُڑا دیا تو اس کے لئے تو نے پہلا ہوا بچھڑا ذبح کرایا اس نے اس سے کہا۔ بیٹا تو تو ہمیشہ میرے پاس ہے اور جو کچھ میرا ہے وہ تیرا ہی ہے لیکن خوشی منافی اور شادماں ہونا مناسب تھا ۔ کیونکہ تیرا یہ بھائی مردہ تھا اب زندہ ہوا ۔ کھویا ہوا تھا اب ملا ہے" (لوقا باب ۱۵ آیت ۱۱ تا ۳۲ برٹش اینڈ فارن بائبل سوسائٹی لاہور شاہ ) ( اس تمثیل سے حضرت مسیح نے یہ بتایا ہے کہ خدا کو بھی بندہ سے ایسا ہی پیار اور محبت ہے اور جو بندہ گناہ کر کے پچھتا تا ہوا خدا کے پاس آتا ہے خدا اس پر اسی طرح رحم کرتا ہے جس طرح باپ اپنے بیٹے پر مگر یہ عجیب بات ہے کہ حضرت مسیح تو خدا تعالیٰ کے بندوں سے تعلق کو اوپر کی تمثیل سے واضح کر کے اسے بہترین غفو کرنے والا قرار دیتے ہیں مگر مسیحی اسے ایسا ظالم قرار دیتے ہیں کہ خواہ کوئی کتنی ہی التجا کرے وہ اسے معاف ہی نہیں کرتا ۔ کیا اس باپ نے جس کی حضرت مسیح نے تمثیل دی ہے اپنے آنے والے بیٹے کو پہلے مارا اور پھر معاف کیا تھا ۔ یا اس کی ندامت کو قبول کر کے بغیر کسی سزا کے معاف کر دیا تھا اور اس کے آنے پر خوش ہوا تھا ۔ اگر اس کے آنے پر باپ نے کہا ہوتا کہ پیٹھ تنگی کر تاکہ پہلے تمہیں سزا دے لوں۔ اور پھر چھوڑ دوں گا ۔ یا یہ کہ پہلے بڑے بیٹے کو بلا کر کفارہ کے طور پر کوڑے مارے ہوتے پھر چھوٹے کو معاف کیا ہوتا۔ تب تو کہہ سکتے تھے کہ کفارہ کا خیال درست ہے مگر ایسا نہیں ہوا حضرت مسیح نے اس تمثیل کے ذریعہ سے در حقیقت کفارہ کے مسئلہ کو جڑ سے اکھیڑ دیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت میسج کو الہام کے ذریعہ سے پتہ لگ گیا تھا۔ کہ ان کے ماننے والے اس قسم کا عقیدہ بنا لیں گے ۔ اس لئے انہوں نے اس تمثیل کے ذریعہ سے اس زہر کا ازالہ کر دیا ۔