انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 347

انوار العلوم جلد 4 ۳۴۷ هستی باری تعالیٰ باپ قرار دیا گیا ہے۔ کیا باپ اپنے بچوں سے ویسا ہی سلوک کرتے ہیں جو سچی کہتے ہیں کہ خدا بنی نوع انسان سے کرتا ہے کہ خواہ وہ کس قدر بھی تو یہ کیوں نہ کریں وہ ان کے قصور معاف نہیں کرتا۔ مسیحی یہ نہیں کہہ سکتے کہ دنیوی باپ بوجہ کم علمی اور جہالت کے ایسا کرتے ہیں ورنہ اگر وہ عدل کو مد نظر رکھیں تو اپنے بچوں کا قصور بغیر کفارہ کے معاف نہ کریں۔ کیونکہ خود مسیح علیہ السلام نے انجیل میں خدا کو باپ سے تمثیل دے کر انسان سے سلوک کی مندرجہ ذیل حکایت کے ذریعہ سے کیفیت بیان کی ہے ۔ " کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا کہ اسے باپ مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے ۔ اس نے اپنا مال متاع انہیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گذرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بد چلنی میں اُڑا دیا اور جب سب خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔ پھر اس ملک کے ایک باشندے کے ہاں جا پڑا ۔ اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سور چرا نے بھیجا اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سٹور کھاتے تھے ۔ انہیں سے اپنا پیٹ بھرے۔ مگر کوئی اسے نہ دیا تھا پھر اس نے ہوش میں آکر کہا کہ میرے باپ کے کتنے ہی مزدوروں کو روٹی افراط سے ملتی ہے اور میں یہاں بھو کا مر رہا ہوں۔ میں اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا کہ اسے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں مجھے اپنے مزدوروں جیسا کرلے پس وہ اُٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا ۔ وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اس کو گلے لگا لیا اور بو سے لئے ۔ بیٹے نے اس سے کہا کہ اسے باپ میں آسمان کا اور تیری نظر میں گنہگار ہوا ۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاوں ۔ باپ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ اچھے سے اچھا جامہ جلد نکال کر اسے پہناؤ اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ اور پلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو۔ تاکہ ہم کھا کر خوشی منائیں ۔ کیونکہ میرا یہ بیٹا مردہ تھا اب زندہ ہوا ۔ کھویا ہوا تھا اب ملا ہے پس وہ خوشی منانے لگے لیکن اس کا بڑا بیٹا کھیت میں تھا جب وہ آکر گھر کے نزدیک پہنچا تو گانے بجانے اور ناچنے کی آواز سنی