انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 325

انوار العلوم جلد 4 ۳۲۵ هستی باری تعالی آپ نے سب دوستوں کو جگایا اور کہا کہ مکان خطرہ میں ہے اس میں سے نکل چلنا چاہتے سب دوستوں نے نیند کی وجہ سے پرواہ نہ کی اور یہ کہ کر سوگئے کہ آپ کو وہم ہو گیا ہے مگر آپ کا احساس برابر ترقی کرتا چلا گیا آخر آپ نے پھر کو جگایا اور توجہ دلائی کہ چھت میں سے چرچراہٹ کی آواز آتی ہے مکان کو خالی کر دینا چاہئے انہوں نے کہا معمولی بات ہے ایسی آوازہ بعض جگہ لکڑی میں کیڑا لگ جانے سے آیا ہی کرتی ہے ۔ آپ ہماری نیند کیوں خراب کرتے ہیں مگر آپ نے اصرار کر کے کہا کہ اچھا آپ لوگ میری بات مان کر ہی نکل چلیں آخر مجبور ہو کر وہ لوگ نکلنے پر رضا مند ہوئے حضرت صاحب کو چونکہ یقین تھا کہ خدا میری حفاظت کے لئے مکان کے گرنے کو روکے ہوئے ہے ۔ اس صاحب لئے آپ نے انہیں کہا کہ پہلے تم نکلو پیچھے میں منکلوں گا ۔ جب وہ نکل گئے اور بعد میں حضرت صا نکلے تو آپ نے ابھی ایک ہی قدم سیڑھی پر رکھا تھا کہ چھت گر گئی۔ دیکھیں آپ انجینئر نہ تھے کہ چھت کی حالت کو دیکھ و کر سمجھ لیا ہو کہ گرنے والی ہے نہ چھت کی حالت اس قسم کی تھی نہ آواز ایسی تھی کہ ہر اک میم کی شخص اندازہ لگا سکے کہ یہ کرنے کو تیار ہے۔ علاوہ ازیں جب تک آپ اصرار کر کے لوگوں کو اٹھاتے رہے اس وقت تک چھت اپنی جگہ پر قائم رہی اور جب تک آپ نہ نکل گئے تب تک بھی نہ گری مگر جو سنی کہ آپ نے پاؤں اُٹھا یا چھت زمین پر آگری۔ یہ امر ثابت کرتا ہے کہ یہ بات کوئی اتفاقی بات نہ تھی بلکہ اس مکان کو حفیظ سہستی اس وقت تک روکے رہی جب تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن کی حفاظت اس کے مد نظر تھی اس مکان سے نہ نکل آئے ۔ پس صفت حفیظہ کا وجود ایک بال دادہ تھی پر شاہد ہے اور اس کا ایک زندہ گواہ ہے۔ صفت خالقیت خدا کی بستی کا ثبوت پانچویں مثال کے طور پر میں صفت خلق کو بیان کرتا ہوں ۔ یہ بات واضح ہے کہ اگر تمام تخلیق کے علاوہ جو دنیا میں ایک مقررہ قاعدہ کے ماتحت ہو رہی ہے ایک خاص تخلیق بھی ثابت ہو جائے تو ماننا پڑے گا کہ ایک ایسی بہتی ہے جس کی قدرت میں ہے کہ جو چاہے پیدا کرے اور یہ خدا تعالیٰ کے موجود ہونے کا ایک زبردست ثبوت ہو گا۔ اس صفت کے ثبوت کے طور پر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کے طور پر ایک واقعہ پیش کرتا ہوں ۔ آپ ایک دفعہ کہیں جا رہے تھے کہ آپ کے ساتھیوں کے پاس جو پانی تھا وہ ختم ہو گیا ۔ اتنے میں آپ نے دیکھا کہ ایک عورت پانی لئے جا رہی ہے ۔ آپ نے اس سے در سے دریافت فرمایا کہ یہاں سے پانی کتنے فاصلہ پر ہے ؟ اس نے کہا تین منزل پر چونکہ ایک لشکر آپ کے ساتھ تھا اور پانی ختم ہو چکا تھا آپ نے اس سے پانی کا مشکیزہ لے لیا اور اس کے منہ پر اپنا ہاتھ رکھ کر لوگوں