انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 324

سے آگے نہیں گیا۔جب یہ باتیں ہورہی تھیں تو نیچے آپ بھی سن رہے تھے۔حضرت ابوبکر ؓ کو ڈر پیدا ہوا کہ مَیں اکیلا کیا کرسکوں گا ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ خدا کے رسولؐکو پکڑ لیں لیکن جس شخص کے متعلق آپ ڈر رہےتھے اور جو شخص حقیقتاً مکہ والوں کو مطلوب تھا وہ اس خوف کے وقت میں فرماتا ہے لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللہَ مَعَنَا٭ غم نہ کھا خدا ہمارے ساتھ ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ کھوجی جن کی بات پر ان لوگوں کو بہت ہی یقین ہوتا تھا وہ کہتے ہیں کہ آپ اس جگہ آئے ہیں مگر کوئی آگے بڑھ کر غار کے اندر نہیں جھانکتا اور یہ کہہ کر کہ یہاں ان کا ہونا نا ممکن ہے سب لوگ واپس چلےجاتے ہیں۔میں جب مکّہ گیا تھا تو اس غار کو دیکھنے کے لئے بھی گیا تھا لیکن اوپر چڑھتے ہوئے میرا سانس پُھول گیا اور میں وہاں تک نہ جاسکا دوسرے آدمی کو بھیجا کہ جاکر دیکھ آئے۔اس نے آکر بتایا کہ اس غار کا منہ اچھا چوڑا ہے ایک چارپائی کے قریب ہے لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ باوجود اس کے کہ ہرایک بات اس کی طرف اشارہ کررہی تھی کہ آپ اس غار میں ہیں اور وہ لوگ اس قدر جوش سے آپ کی تلاش میں آئے تھے مگر باوجود آپ کی گرفتاری کی دلی خواہش کے اور واقعات کے آپ کے وہاں موجود ہونے کی طرف اشارہ کرنے کے ان کو اس قدر توفیق نہ ملی کہ ذرا جُھک کر غار میں دیکھ لیتے ان کے سامنے کوئی توپ نہیں تھی جس کا انہیں در ہوسکتا تھا نہ کوئی اور روک اور مشکل تھی۔لیکن ان میں سے کوئی بھی غار کو نہیں دیکھتا اور سارے واپس چلے جاتے ہیں۔آپ کے اِنَّ اللہَ مَعَنَا کہنے کے بعدا ن لوگوں کا اس طرح خائب و خاصر چلے جانا کیا اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک زبردست طاقت کی حفاظت میں تھے۔ایک مثال حفاظتِ الٰہی کی مَیں حضرت مسیح موعودؑکی زندگی میں سے بھی پیش کرتا ہوں۔کنورسین صاحب جو لاءکالج لاہور کے پرنسپل ہیں ان کےوالد صاحب سے حضرت صاحبؑ کو بڑا تعلق تھا حتّٰی کہ حضرت مسیح موعود ؑ کو کبھی روپیہ کی ضرورت ہوتی توبعض دفعہ ان سے قرض بھی لے لیاکرتے تھے ان کو بھی حضرت صاحب سے بڑا اخلاص تھا۔جہلم کے مقدمہ میں انہوں نے اپنے بیٹے کو تار دی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سےوکالت کریں اس اخلاص کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے ایاّمِ جوانی میں جب وہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع چند اور دوستوں کے سیالکوٹ میں اکھٹے رہتے تھے حضرت مسیح موعود کے کئی نشانات دیکھے تھے چنانچہ ان نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ ایک رات آپ دوستوں سمیت سورہے تھے کہ آپ کی آنکھ کُھلی اور دل میں ڈالا گیا کہ مکان خطرہ میں ہے *بخاری کتاب التفسیر باب ثانی اثنین اذھما فی الغار