انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 323

قبولیّتِ دُعاپر اعتراض اوراس کا جواب دُعاؤں کی قبولیت کے متعلق یہ اعتراض کیاجاتا ہے کہ ہم یہ کیوں نہ سمجھیں کہ جن باتوں کو دُعاؤں کی قبولیت کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے وہ اتفاقاً ہوجاتی ہیں ہم کہتے ہیں یہ اعتراض معقول ہے بعض غیر معمولی واقعات اتفاقاً بھی ہو جایا کرتے ہیں لیکن دُعائوں کی قبولیت کے ساتھ بعض امور متعلق ہیں جن کی موجودگی میں نہیں کہہ سکتے کہ جو نتائج پیدا ہوئے ہیں وہ اتفاقاً ہوئے ہیں اول تو یہ کہ دُعائوں کے ساتھ ساتھ واقعات میں تبدیلی ہوتی جاتی ہے جسے دیکھ کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ تبدیلی اتفاقی نہیں بلکہ کسی ارادہ کے ماتحت ہورہی ہے۔دوسرے یہ کہ ایسے امور بھی دعائوں کےذریعہ سےپورے ہوتے ہیں کہ بغیر دُعا کے اتفاقاً بھی وہ نہیں ہوتے۔تیسرے یہ کہ اس کثرت سے دُعائوں کےذریعہ سے غیر معمولی حالات پیدا ہوتے ہیں کہ اس کثرت کی موجودگی میں اتفاق کا لفظ بولا ہی نہیں جاسکتا۔چوتھے یہ کہ دعا کرنے والے کوبسا اوقات قبل از وقت معلوم ہوجاتا ہےکہ اس کی دعا قبول ہوگئی ہے خواہ بذریعہ الہام خواہ بطور القاء کہ اس قبل از وقت علم کے بعد اس کا نام اتفاق رکھنا بالکل درست نہیں۔غرض قبولیت دعا کے نظارے ایسے طور پر دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی موجودگی میں اتفاق کا شطبہ تک بھی پیدا نہیں ہوسکتا۔صفت حفیظ خدا کی ہستی کا ثبوت چوتھی مثال میں خدا تعالیٰ کی صفت حفیظ کی پیش کرتا ہوں تمام نبیوں نے شہادت دی ہے کہ خدا حفیظ ہے۔اب آئو دیکھیں کہ کیا کوئی حفیظ ہستی ہے۔جو قانون قدرت کے علاوہ حفاظت کے ثبوت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو پیش کرتا ہوںمکہ والوں نے آپ کو مارنا چاہا خدا تعالیٰ نے آپ ؐکو وقت پراطلاع دی اور فرمایا کہ یہاں سے چلے جاؤ آپ ؐوہاں سے روانہ ہوگئے لیکن بعض مصالح کی وجہ سے راستہ میں ٹھہرنا پڑا۔قریب کے پہاڑ کی ایک غار میں جس کامنہ چند فٹ مربع ہے اور جسے غار ثور کہتے ہیں آپ ٹھہر گئے مکہ والے تلاش کرتے کرتے اس جگہ تک جا پہچنے عربوں میں کھوج لگانے کاعلم بڑا یقینی تھا اور یہ ان کے لئے ضروری تھا کیونکہ وہ جنگلی لوگ تھے اگر اس کےذریعہ اپنے دشمنوں کا پتہ نہ لگایا کرتے تو تباہ ہوجاتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں بھی کھوجی لگائے گئے۔اور وہی پتل لگاتے ہوئے اس غار تک مکہ والوں کے لے آئے وہاں آکر انہوں نے کہا کہ یا تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) یہاں ہے یا پھر آسمان پر چڑھ گیا ہے اس