انوارالعلوم (جلد 6) — Page 321
انوار العلوم جلد 4 ۳۲۱ بستی باری تعالی نے کسی منتر سے روپیہ بنایا ہو اسی طرح کیوں نہ سمجھا جائے کہ اس مشاہدہ میں بھی کوئی دھوکا ہی ہوتا 44 ہو انسان خیال کرتا ہو کہ اسے مشاہدہ یا مکالمہ حاصل ہوا ہے اور فی الواقع کچھ بھی نہ ہو۔ ہم کہتے ہیں مشاہدے دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ جن میں غلطی لگ سکتی۔ لگ سکتی ہے۔ دوسرا دہ جن میں غلطی لگنے کا امکان نہیں ہوتا ۔ ایک مشاہدہ تو یہ ہے کہ ملا کوئی شخص دور سے ایک شکل دکھتا ہے اورسمجھتا ہے کہ یہ فلاں شخص ہے لیکن ایک اور شخص اسے ملتا ہے جو بتاتا ہے کہ وہ اس شخص کوکسی اور جگہ پر دیکھ کر آیا ہے اس وقت اس شخص کی بات قبول کی جاتی ہے جو قریب سے دیکھ کر آیا ہے اور اس کی رد کر دی جاتی ہے جس نے دور سے دیکھا تھا ۔ اس لئے نہیں کہ مشاہدہ مشتبہ شئے ہے بلکہ اس لئے کہ خود مشاہدوں کے مختلف درجے ہیں اور پہلے شخص کے مشاہدہ کے مقابلہ میں دوسرے شخص کا قریب کا مشاہدہ جب پیش کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پہلے مشاہدہ میں نے مادہ میں غلطی لگ گئی تھی لیکن ایک مشاہدہ اس قسم کا ہے کہ مثلاً ایک شخص مجھ سے باتیں کرے اور اس وقت لوگ بھی موجود ہوں اور وہ بھی اس امر پر شاہد ہوں کہ ہاں فی الواقع اس نے مجھ سے باتیں کی ہیں ہیں اس کے بعد کوئی شخص مجھے آکر کہے کہ میں نے تو ایسے لاہور میں دیکھا ہے ۔ تو اس صورت میں مجھے اپنے مشاہدہ کے متعلق کوئی شبہ نہ ہو گا بلکہ میں اس شخص کی نسبت یہی یقین کروں گا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے یا غلطی خورد؟ ہے ۔ اسی طرح شعبدہ باز اگر اپنی ہتھیلی پر روپیہ بنانے کی بجائے میری ہتھیلی پر روپیہ بنائے تو اس کے روپیہ بنانے میں کوئی شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن وہ تو اپنی ہی ہتھیلی پر روپیہ بناتا ہے جس کی نسبت یقین کیا جا سکتا ہے کہ اس نے کسی نہ کسی جگہ روپیہ چھپا کر رکھا ہوا ہو گا پس شعبدہ باز نہ کی کر کی شعبدہ بازی مشاہدہ نہیں کہلا سکتی مگر خدا کے کلام میں الیا شبہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ تو پر شوکت آواز میں یا من وراء حجاب تعبیر طلب خوابوں کے ذریعہ سے ایک نہیں دو نہیں سینکڑوں لت آواز میں یا بندوں سے کلام کرتا ہے ۔ سے کام کرتا ہے ۔ کیا خدا کا مشاہدہ کرنیوالوں کے حواس غلطی تو نہیں کرتے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جو لوگ خدا کے کے مشاہدہ کا اعلان کرتے ہیں ممکن ہے ان کے حواس کی غلطی ہو اور وہ پاگل ہوں یا دھوکا خوردہ مگر ہم کہتے ہیں یہ کیسا پاگل پن ہے کہ اس قسم کے کلام پانے والے سب کے سب اس امر پر متفق ہیں کہ ایک زبردست ہستی ہے جو ہم سے کلام کرتی ہے کبھی پاگلوں میں بھی اس قسم کا اتفاق ہوا کرتا ہے ؟ پاگل تو دو بھی ایک بات نہیں کہتے کجا یہ کہ سینکڑوں ہزاروں لوگ ایسی بات کہیں ان میں