انوارالعلوم (جلد 6) — Page 320
انوار العلوم جلد 4 ۳۲۰ هستی باری تعالی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو زیادہ کرنے والی بات کوئی نہ ہوتی۔ گویا کلام ایک ہی ہے الفاظ ایک بھی ہیں۔ لیکن ان کو ایسے رنگ میں جوڑا گیا ہے کہ جتنی جتنی کسی کی سمجھ اور عقل ہو اس کے مطابق وہ ان سے معنی نکال لے اور اس کلام کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں کم درجہ کی عقل والوں کی سمجھ میں آنے والی باتیں نہیں ہیں اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس میں ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے متعلق تعلیم ہے اعلیٰ روحانی درجہ رکھنے والے ان سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے بلکہ اس کا ہر ہر لفظ دونوں جماعتوں کے لئے ہے ۔ ہر اختلاف رحمت نہیں اس پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے اس پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ مانا کہ اختلاف رحمت ہوتا ہے مگر اسلام میں ایسے جھگڑے اور اختلاف بھی تو ہیں جو د رحمت کا موجب نہیں بلکہ دکھ کا کا موجب ہیں۔ مثلا مثلا اونچی اونچی اور اور نیچی آمین کہنے پر ایک دوسرے کو پتھر بھی مارتے ہیں مقدمے بھی چلتے ہیں ۔ پھر یہ اختلاف رحمت کسی طرح ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک جب انسان گندے ہو جائیں تو ان کی ایسی ہی حالت ہو جاتی ہے کہ فروعی باتوں پر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں ۔ مگر جب کبھی مسلمانوں کی ایسی حالت ہوتی رہی ہے تو خدا تعالیٰ کسی انسان کو بھیج دیتا رہا ہے جو ان کو حقیقت کی طرف لاتا رہا ہے۔ چنانچہ مسلمان اس زمانہ میں بھی ایسی باتوں پر لڑنے جھگڑنے لگے اور نہ سمجھا کہ اس قسم کا اختلاف رحمت نہیں بلکہ عذاب اور دکھ کا موجب ہے تو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کو بھیج دیا اور آپ نے ایک فقرہ میں ان سب جھگڑوں کو حل کر دیا ۔ چنانچہ دیکھ لو ہماری جماعت میں ان امور پر کوئی اختلاف نہیں غرض بعض باتیں ایسی ہیں جن میں سے ایک صورت ادنی درجہ والوں کے لئے ہے ایک اعلیٰ درجہ والوں کے لئے ۔ اور بعض ایسی ہیں جن کی دونوں صورتیں درست ہیں ۔ مثلاً آمین اونچی کہنی تبھی جائز ہے اور نیچی بھی۔ ہاتھ اوپر باندھے جائیں یا نیچے دونوں طرح جائز ہے ۔ اس طرح سب باتوں کا فیصلہ ہو گیا اور کوئی جھگڑا نہ رہا۔ ان مشاہدہ کی دل پر اعتراض اور اس کا جواب یا ہو یا نہ ہوا سے ہے کو خدا کا مشاہدہ ہو جائے خدا کا کلام سنے وہ کس طرح انکار کر سکتا ہے کہ خدا نہیں ہے ۔ اس پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے اور بنا کر دیکھا وہ یہ کہ مشاہدہ کی دلیل ہر جگہ درست طور پر نہیں چل سکتی۔ مثلاً شعبده باز بظاہر روپیہ بناکی دیتا ہے دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ اس نے روپیہ بنا دیا ہے۔ لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہوتا کہ اس