انوارالعلوم (جلد 6) — Page 311
دلیل شہادت پر اعتراض اور اس کا جواب کہا جاسکتا ہے کہ کیا پتہ ہے کہ ان لوگوں نے فی الواقع ایسی شہادت دی ہے کہ کوئی خدا ہے جس نے انہیں مبعوث کیا ہے اوران کے بعد لوگوں نے اپنے پاس سے بات بنا کر ان کی طرف منسوب نہیں کردی۔اس کا جواب اوّل تو یہ ہے کہ جس طرح ان کی شہادت تو اتر سےپہنچتی ہے اور دنیا کی کوئی شہادت تو اتر سے نہیں پہنچتی کروڑوں آدمی نسلاً بعد نسلٍ اورہزاروں کُتب ان کی شہادت کو پیش کرتی چلی آئی ہیں۔پس ان کی شہادت کے متعلق کسی قسم کا شبہ پیدا نہیں کیاجاسکتا۔پھریہ کہ شہادت کسی خاص زمانہ سے مختص نہیں ہے ہر زمانہ میں ایسےشاہد گذرے ہیں اور اس وقت بھی ایک شخص گذرا ہے جسنے اس شہادت کو تازہ کیا ہے اوراپنی راستبازانہ زندگی بھی باوجود اس کے کہ سب قوموں کے لوگ اس کے ارد گرد بستے تھے یہ نہ کہہ سکی کہ اس کی زندگی فی الواقع تقویٰ اور راستبازی کا نمونہ نہ تھی۔بلکہ اس کے خطرناک دشمنوں تک نے یہ شہادت دی کہ وہ اپنی راستبازی میں سارے زمانہ میں بے مثل تھا اور یہانتک اس کی صداقت اور راستبازی کے لوگ معترف تھے کہ مخالفین نے ان جھگڑوں میں جو اس کے خاندان کےساتھ تھے تسلیم کرلیا کہ جو وہ کہہ دے ہم اسے مان لیں گے۔یہ شخص حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام احمد مسیح موعود و مہدی معہود تھے۔پس جبکہ ہر زمانہ میں اس قسم کے شاہد موجود ہیں تو اس شہادت میں کچھ بھی شک نہیں کیا جاسکتا۔آٹھویں دلیل اب میں آٹھویں دلیل بیان کرتا ہوں۔یہ ان دلیلوں سے جنہیں میں اب تک بیان کر چکا ہوں مختلف ہے اور اس دلیل سےایک نیا سلسلہ دلائل کا شروع ہوتا ہے اور اس سلسلہ میں اور پہلے سلسلہ دلائل میں یہ فرق ہے کہ پہلی دلیلوں میں تو ہستی باری کا ثبوت صرف عقلاً ملتا تھا اور عقل اپنے فیصلہ میں بعض دفعہ غلطی بھی کرجاتی ہے اس دلیل سے سلسلہ دلائل مشاہدات سے تعلق رکھتا ہے جن میں غلطی ناممکن ہوجاتی ہے گو یہ ایک سلسلہ دلائل کا ہے مگر میں روشنی ڈالتا ہوں۔یاد رکھنا چاہئے کہ خدا نے اپنے وجود کو ثابت کرنےکے لئے ایک دو نہیں چار نہیں دس بیس نہیں بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں دلیلیں رکھی ہیں۔خدا تعالیٰ کی ہر صفت اس کی ہستی کا ثبوت ہے ہم کہتے ہیں کہ خدا رحیم ،کریم ،قدیر ،سمیع ،بصیر ہے۔پس اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انسان سے بالا ایک ہستی ہےجو رحیم ہے اور رحم کرتی ہے۔کریم ہے کرم کا سلوک کرتی ہے۔ہماری ضروریات