انوارالعلوم (جلد 6)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 603

انوارالعلوم (جلد 6) — Page 309

انوار العلوم جلد 4 ۳۰۹ ہستی باری تعالی صاحب گذرے ہیں وہ اپنے چال چلین اور صداقت کی معیت کی وجہ سے ایسے مقام پر تھے کہ ان کے دشمن بھی ان پر اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں پاتے تھے اور اسی طرح ان کے اتباع میں سے لاکھوں صا کشوف والهام لوگ ہوتے ہیں کہ جن کا چال چلن بھی ہر قسم کے شعبہ سے بالا تھا اور ان کی راستبازی کا اعتراف ان کے دشمن بھی کرتے تھے ۔ حضرت مولتی کی پاک زندگی دیکھو فرعون حضرت مولی کا کتا سخت دشن تھا مگراس میں بھی یہ جرات نہ تھی کہ ان پر جھوٹ کا الزام لگائے ۔ اس نے یہ توکہا کہ یہ پاگل ہو گیا ہے یونی باتیں بناتا ہے مگر یہ نہیں کہ سکا کہ ان کا چال چلن خراب ہے حالانکہ وہ اس کے گھر میں پلے تھے اگر ان میں کوئی خرابی ہوتی تو وہ ضرور بتانا کہ ان میں یہ خرابی ہے ۔ ان ہے۔ آپ کے دشمنوں نے اقرار کیا کہ آپ صادق اور امین تھے اور آپ پر انہوں نے کوئی الزام نہ لگایا بلکہ دشمن سے دشمن نے بھی آپ کی طہارت اور پاکیزگی کی شهادت دی۔ چنانچہ مکہ میں ایک مجلس ہوئی کہ باہر سے جب لوگ مکہ میں آئیں گے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے متعلق پوچھیں گے تو ان کو کیا جواب دیں گے سارے مل کر ایک جواب بنا لو تاکہ خلاف نہ ہو آگے ہی ہم بدنام ہو رہے ہیں کہ ایک کچھ کہتا ہے اور دوسرا کچھ کہتا ہے اس لئے حج پر جولوگ آئیں گے انہیں کتنے کے لئے ایک بات کا فیصلہ کر لو اس پر ان میں سے ایک نے کہا یہ کہ دیا کہ جھوٹ کی عادت ہے جو کچھ کہتا ہے سب جھوٹ ہے ۔ یہ سن کر ایک شخص جس کا نام نصر بن حارث تھا کھڑا ہوا اور اس نے کہا یہ بات نہیں کہنی چاہئے اگر یہ کہو گے تو کوئی نہیں مانے گا اور لوگ جوابا کہیں گے کہ سمانَ مُحَمَّدٌ فِيكُمْ غُلَا مَّا حَدَثًا أَرْضَاكُمْ فِيكُمْ وَأَصْدَ قَكُمْ حَدِيثًا وَأَعْظَمَكُمْ أمَا نَةً حَتَّى إِذَا رَثَيْتُمْ فِي صُدْ غَيْهِ الشَّيْبَ وَجَاءَكُمْ بِمَا جَاءَ كُمْ تُلْتُمْسَاحِرَا وَاللَّهِ مَا هُوَ بِسَاحِرٍ * محمد نے تم میں جوانی کی عر بسر کی ہے اور اس وقت وہ تم سب سے زیادہ نیک عمل سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ سچا سمجھا جاتا تھا اور سب سے زیادہ امانت کا پابند تھا یہاں تک کہ جب اس کی کنپٹیوں میں سفید بال آگئے اور وہ تمہارے سیرت ابن ہشام جلد ۱ ، ۲ صفحه ۲۹۹ ۳۰۰۰ موسسه علوم القرآن